’مسلمانوں میں عدم تحفظ ‘والے بیان پرباربارسوال سے بھڑکے سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری اچانک چھوڑا انٹرویو
’مسلمانوں میں عدم تحفظ ‘والے بیان پرباربارسوال سے بھڑکے سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری اچانک چھوڑا انٹرویو
نئی دہلی (اردونیا.اِن)سابق نائب صدر حامد انصاری نے اپنی نئی کتاب کولے کرایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکولر ازم حکومت کی’ڈکشنری‘ غائب ہو گیا ہے، تاہم’مسلمانوں میں عدم تحفظ‘ والے اپنے مشہوربیان کولے کرانٹرویومیں باربارپوچھے جانے پرنہ صرف اینکر کی غلیظ ذہنیت پرسوال اٹھایا بلکہ اچانک انٹرویوچھوڑکرچلے گئے۔ہفتہ کی رات ’زی نیوز‘ پر نشر ایک انٹرویو میں انصاری نے اپنی کتاب میں لکھی بات کودہراتے ہوئے کہا کہ آج حکومت کی لغت میں’ سیکولرزم‘ کا لفظ ہے ہی نہیں ۔
یہ پوچھنے پر کہ کیا 2014 سے پہلے حکومت کی لغت میں یہ لفظ موجود تھا؟ تو ان کا جواب تھا ’ہاں‘، لیکن کافی نہیں۔ اس کے بعد اینکرنے ایک کے بعد ایک جوابی سوال پوچھناشروع کیا۔ اس کڑی میں ان کے سوالات میں’ ہندو دہشت گردی‘ سے لے کر عدم برداشت اور ’مسلمانوں میں عدم تحفظ‘،ماب لچنگ جڑتے گئے اور آخر کار انصاری اچانک انٹرویو چھوڑ کرچلے گئے۔
جب’ ہندو دہشت گردی‘کہاجاتاتھا تو کیا حکومت کی لغت میں سیکولرزم لفظ تھا؟ اس سوال نے انصاری کامزاج خراب کردیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ کسی کے بھی کہے الفاظ کو میرے ساتھ مت جوڑیں،جنہوں نے یہ کہاہے ،ان لوگوں سے پوچھیں۔
آپ 10 سال تک نائب صدر رہے،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر، اقلیتی کمیشن کے سربراہ، سفیررہے، ملک نے آپ کو بہت کچھ دیا لیکن آپ کے دور اقتدار کے آخری دن آپ نے کہا کہ مسلمان غیر محفوظ ہیں، وجہ کیا ہے؟۔
اینکر کے اس سوال پر انصاری نے کہا کہ انہوں نے یہ بات عوامی تاثرات کی بنیاد پر کہی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ماب لنچنگ کا بھی ذکر کیا۔ جوابی سوال میں جب اینکر نے پوچھا کہ لنچنگ ہندوؤں کے ساتھ بھی ہوتی ہے تو انصاری نے کہا کہ ہوتی ہوگی۔
اینکر نے کئی بار یہ سوال پوچھا کہ آپ کو یہ کیوں لگتا ہے کہ مسلمان غیر محفوظ ہیں؟ لیکن انصاری براہ راست جواب نہ دے کر بار بار اپنی کتاب کو بغور پڑھنے کامشورہ دیا۔ اس دوران اینکر نے کہا کہ انٹرویو کا مقصد ان کی کتاب کی تشہیر کرنا نہیں بلکہ اس میں لکھی ہوئی باتوں پر سوال اٹھانا ہے۔ ’مسلمانوں میں عدم تحفظ‘ کا سوال باربار پوچھے جانے پرانصاری ناراض ہوگئے۔
اینکر سے کہا کہ آپ کی ذہنیت ٹھیک نہیں ہے، کیا میں نے آپ کو مدعو کیاتھا؟ آپ کتاب کا جائزہ لیں،آپ کی ذہنیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ اچانک شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرویو سے اٹھ گئے۔
دراصل نائب صدر کی حیثیت سے حامد انصاری نے ایک بیان دیا تھا کہ ملک کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ بنگلور میں یونیورسٹی کے نیشنل لاء اسکول کی 25 ویں کنووکیشن تقریب میں انہوں نے کہاتھا کہ ملک کی اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے، بعد میں اپنی میعاد ختم ہونے سے ایک دن قبل راجیہ سبھا ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے ان چیزوں کو دہرایا تھا۔




