بھوک لگنے پر ذائقہ کیوں بڑھ جاتا ہے
مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ موٹاپے کے شکار افراد میٹھے کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر اس عصبی نظام کی سرگرمی میں تبدیلی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
کیا کبھی آپ نے سوچا کھانا اس وقت زیادہ مزیدار کیوں لگتا ہے جب بھوک زیادہ لگ رہی ہو اور اس وقت ذائقہ کیوں غائب محسوس ہوتا ہے جب پیٹ پھرا ہوا ہو؟تو اس کا جواب آخرکار سائنس نے ڈھونڈ لیا ہے۔
درحقیقت جب پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں تو غذاؤں کا ذائقہ تو اچھا لگتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ تلخ یا کڑوی چیزوں کو کھانا بھی آسان ہوجاتا ہے۔اور اس کے پیچھے ایک عصبی سرکٹ چھپا ہوتا ہے۔یہ بات جاپان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سائیکلوجیکل سائنسز کی تحقیق میں سامنے آئی۔عام طور پر جب زیادہ بھوک نہ ہو تو ہم لوگ تلخ اور کھٹے ذائقے کے مقابلے میں میٹھے کو ترجیح دیتے ہیں مگر یہ ترجیحات اندرونی کیفیت جیسے بھوک کی صورت میں بدل جاتی ہے۔محققین نے چوہوں پر دریافت کیا کہ بھوک کی صورت میں یہ جانور مٹھاس کو بہت زیادہ ترجیح دیتا ہے جبکہ دیگر بدذائقہ چیزوں کے لیے بھی حساسیت میں کمی آجاتی ہے۔
انہوں نے ایسے نیورونز پر توجہ مرکوز کی جو بھوک کی کیفیت میں متحرک ہوکر پیٹ بھرنے کے رویے کو جنم دیتے ہیں جبکہ 2 ایسے عصبی کیفیات کی شناخت کی گئی جو بھوک کی صورت میں ذائقے کی ترجیحات میں تبدیلیاں لاتی ہیں۔ یہ نیورونز تھیلمس میں دریافت کیے گئے جو دماغی کا ایسا حصہ ہے جو بھوک کو کنٹرول کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ انہوں نے چوہوں میں ان نیورونز کو متحرک کرکے یہ دیکھا کہ بھوک کی صورت میں ان کے ذائقے پر کیا تصورات غالب آجاتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ ان نیورون کو متحرک کرنے میں ذائقے کے حوالے سے ترجیح میں 2 مختلف انداز سے تبدیلی آتی ہے، یعنی میٹھے کی خواہش بڑھ جاتی ہے جبکہ تلخ ذائقے کے لیے ناپسندیدگی بھی کم ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب ذیابیطس اور موٹاپے کے حوالے سے اس عصبی طریقہ کار کے کردار پر تحقیق کی جانی چاہیے، مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ موٹاپے کے شکار افراد میٹھے کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر اس عصبی نظام کی سرگرمی میں تبدیلی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔



