
آر ایس ایس کو مارچ کی اجازت کیوں نہیں؟ ہائی کورٹ
ر ایس ایس کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے اسے 22 اور 29 اکتوبر کو تمل ناڈو میں 35 مقامات پر روٹ مارچ منعقد کرنے کی اجازت دی
چنئی،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آر ایس ایس کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے اسے 22 اور 29 اکتوبر کو تمل ناڈو میں 35 مقامات پر روٹ مارچ منعقد کرنے کی اجازت دی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، راستے پر مساجد اور گرجا گھروں جیسے مذہبی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے مارچ کی اجازت دینے سے انکار کرنے کے تمل ناڈو حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ یہ آئین کے ذریعہ تصور کردہ سیکولرازم کے اصول کے خلاف ہے۔جسٹس جی جے چندرن کی سنگل بنچ نے ریاستی پولیس کو ہدایت دی کہ آر ایس ایس کو مجوزہ راستوں پر روٹ مارچ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت تقریباً ایک ماہ سے اس طرح کے ‘روٹ مارچ’ کے لیے آر ایس ایس کے اراکین اور عہدیداروں کی طرف سے دی گئی متعدد نمائندگیوں پر بیٹھی ہے۔ اس نے کہا کہ ریاستی حکومت نے درخواست گزاروں کے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے سے قبل ہی فیصلہ لیاتھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ مارچ کی اجازت نہ دینے کی بڑی وجوہات میں کچھ مجوزہ راستوں پر مساجد، گرجا گھروں اور ڈی ایم کے کے ایک علاقائی دفتر کی موجودگی کے ساتھ ساتھ کچھ سڑکوں پر ممکنہ ٹریفک بھیڑ بھی شامل ہے۔ بار بنچ کی رپورٹ مطابق عدالت نے کہا کہ مارچ کی اجازت سے انکار کے لیے ان وجوہات کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مسترد کے حکم کا ارادہ یقینی طور پر سیکولر یا جمہوری طرز حکمرانی کے مطابق نہیں ہے۔ تمل ناڈو پولیس نے مارچ کی اجازت نہ دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ مارچ کے راستے پر مساجد اور چرچ ہیں۔
اس کے علاوہ راستے میں جام بھی ہو سکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ مارچ کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے ایسے دلائل دینا درست نہیں۔ یہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ عدالت نے تمل ناڈو پولیس سے کہا ہے کہ وہ مارچ کی اجازت دے، لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ پورا نظام پر امن رہے۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ ریاست نے روٹ مارچ کی اجازت دینے سے انکار کرنے کی کچھ وجوہات بتائی تھیں، لیکن ان کا مقصد صرف سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کرنا اور ریاستی مشینری کی نا اہلی کو اجاگر کرنا تھا۔



