مردوں میں باپ بننے کی صلاحیت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟
’مسئلہ مجھ میں ہو سکتا ہے، یہ سوچا بھی نہ تھا‘
عزیز اللہ خان، ثمرہ فاطمہ
’میں بظاہر صحتمند تھا۔ مجھے تو ذرہ برابر بھی یہ گمان نہیں تھا کہ مسئلہ مجھ میں بھی ہو سکتا ہے اور ایسے میں دو سال تک میں اپنی بیگم کو اسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس لے جاتا رہا۔‘ ارسلان (فرضی نام) کے ہاں شادی کے بعد اولاد نہیں ہو رہی تھی، مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنا ٹیسٹ کروانے کے بجائے وہ اپنی اہلیہ کو ہی ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے رہے، اُن کی مختلف ٹیسٹ کروائے اور بلآخر ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُن کی اہلیہ بچہ پیدا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔
’ڈاکٹر نے بتا دیا کہ میری اہلیہ کے ساتھ کوئی طبی مسئلہ نہیں ہے، لہذا مجھ سے کہا گیا کہ اب مجھے اپنے ضروری ٹیسٹ کروانا ہوں گے۔‘
’میں پہلے تو ہچکچایا کہ یہ کیا بات ہوئی، مجھے ٹیسٹ کروانے کا کیوں کہا جا رہا ہے۔ لیکن پھر میں ٹیسٹ کے لیے چلا گیا اور اپنے سیمن (مادہ منویہ) کا سیمپل (نمونہ) دے دیا۔ اس کے بعد جب رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کہ مسئلہ تو مجھ میں ہے۔‘ارسلان بتاتے ہیں کہ ’وہ وقت میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ میرے سر پر جیسے آسمان گر گیا ہو۔ میں بتا نہیں سکتا، میں ڈاکٹر کے سامنے روتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔‘انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے یہ خبر اپنی اہلیہ کو سنائی تو چند لمحوں کے لیے ’وہ جیسے سکتے میں چلی گئی تھی۔ بالکل ایسی صورتحال تھی جیسے کوئی بڑی آفت آن پڑی ہو۔‘
تاہم ڈاکٹر کے مشورے پر ارسلان نے علاج کا آغاز کیا اور اب ان کے مطابق ’حالات بہتر ہوئے ہیں۔ زندگی بہت ہنسی خوشی گزر رہی ہے۔ پہلے مالی حالات بھی بہتر نہیں تھے اس لیے علاج نہیں کر پا رہے تھے، جب کچھ حالات بہتر ہوئے تو علاج شروع کیا اور اب امید جاگ اٹھی ہے۔‘
یہ مسئلہ صرف ارسلان کا نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں مردوں کا سپرم کاؤنٹ کم ہوا ہے۔آکسفورڈ پریس کی جانب سے مردانہ تولیدی نظام کے بارے میں جاری ایک سٹڈی میں Sperm کی گنتی (سپرم کاؤنٹ) میں وقتی رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر میر کے مطابق ’بانجھ پن کی وجوہات میں پیدائشی وجوہات یا جینیاتی مسئلے ہوتے ہیں اور بعض مردوں کے خصیے چھوٹے رہ جاتے ہیں جن میں مطلوبہ تعداد میں سپرم نہیں بن پاتے۔ یا ایزو سپرمیا کا عارضہ ہو سکتا ہے جس میں یا تو سپرم بنتے ہی نہیں یا بہت کم بنتے ہیں۔‘ڈاکٹر میر کے مطابق لوگوں کی خوراک، رہن سہن اور آج کل تو جنک فوڈ بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔سائنسی تحقیق کے مطابق جسمانی، جینیاتی اور جنسی عوامل کے علاوہ کئی دوسری چیزیں بھی مردوں کی تولیدی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اِن میں ہمارے ارد گرد کے ماحول میں پائے جانے والے مصنوعی کیمیائی مادّے بھی شامل ہیں۔
پلاسٹک، کیڑے مار ادویات، بھاری دھاتیں اور زہریلی گیسیں اور سِنتھیٹِک مادّے جسم کے اندر ہارمونز کا توازن بگاڑ دیتے ہیں جس سے مردوں میں صحت مند سپرم پیدا کرنے کی صلاحیت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تمباکو نوشی، شراب نوشی، بعض ادویات، پروسیسڈ فوڈ، موٹاپا اور ورزش کی کمی بھی مردانہ صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ’لیکن سائنسدان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ وجوہات کے بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔‘
ڈاکٹر میر عابد جان تولیدی صحت کے لیے غذا کا خاص خیال رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ فوڈ سے دوری اور ورزش کو طرز زندگی میں شامل کیا جانا مردوں کی تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔



