بین الاقوامی خبریں

گریٹ ریزگنیشن: امریکہ میں ملازمت چھوڑنے کے رجحان میں اضافہ کیوں؟

نیویارک،2اگست: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرونا وائرس کی عالمی وبا جہاں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی ہے وہیں روز مرہ زندگی میں بھی اس نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے۔ ان میں سے بعض تبدیلیاں ایسی ہیں جن کا اس سے پہلے تصور بھی شاید ممکن نہیں تھا۔ ایسی ایک نمایاں تبدیلی گھر سے دفتری کام یا ’ورک فرام ہوم‘ بھی ہے۔کرونا وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈائون اور دیگر پابندیوں کی بنا پر جب ’ورک فرام ہوم‘ کا سلسلہ شروع ہوا تو ابتدا میں بیش تر ملازمین کو اس سے مطابقت پیدا کرنے میں کسی نہ کسی دشواری کا سامنا رہا لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں میں ملازمین کی بڑی تعداد دفاتر واپس آنے پر تیار نہیں۔

لیپیکا راماسوامی سان #فرانسسکو کی ایک کمپنی میں ڈیٹا #سائنٹسٹ کے طور پر وبا کے دوران ٹیکساس سے دفتری امور سر انجام دے رہی تھیں۔ وہ وبا کے مکمل خاتمے تک ٹیکساس میں اپنی بہن کے ساتھ ہی رہنا چاہتی تھیں۔ وبا کا زور تھمنے کے بعد وہ اس انتظار میں تھیں کہ کب انہیں دفتر واپس بلایا جاتا ہے لیکن گزشتہ ماہ جب انہیں ملازمت پر دفتر واپس بلایا گیا تو لیپیکا نے استعفیٰ دے دیا۔

اپنے اس فیصلے کے بارے میں رپورٹر ڈینا میچل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ وبا کا واقعی خاتمہ ہو گیا ہے، کسی نے وبا ختم ہونے کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی میں جانتی ہوں کہ اگلی لہر کب آ رہی ہے اور وہ کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ #وبا ختم ہونے کا انتظار کسی پر فضا مقام پر اپنے خاندان کے ساتھ کرنا چاہتی ہیں۔

لیپیکا کی کہانی انوکھی نہیں ہے بلکہ شہروں کی ہنگامہ خیزی سے دور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے والے کئی ایسے #امریکی ہیں جو زندگی کی ڈگر تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ میں صرف اپریل کے مہینے میں تقریبا 40 لاکھ افراد نے ملازمت چھوڑی۔ یہ امریکہ کی کل ورک فورس کا دو اعشاریہ سات فی صد حصہ بنتا ہے۔یو ایس لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق گزشتہ 20 برسوں کے دوران کسی ایک مہینے میں نوکریاں چھوڑنے کی یہ سب سے بلند شرح ہے۔

مئی اور جون میں بھی ملازمتوں کو خیرباد کہنے والوں کی شرح لگ بھگ یہی رہی۔غیر معمولی تعداد میں #ملازمتیں چھوڑنے کے اس رجحان کو کاروباری امور کے ایک ماہر انتھونی کلاٹز نے ’گریٹ ریزگنیشن‘ کا نام دیا ہے۔انتھونی گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ میں استعفوں کی صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس بارے میں ڈینا میچل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ میں استعفوں کی تعداد اور شرح آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی ہے اور پھر 2020 میں وبا کی بعد یہ #عروج پر پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button