اسپورٹسسرورق

فٹ بال کھلاڑیوں میں ڈیمنشیا کی بیماری کا زیادہ خطرہ کیوں ہے؟

گول کیپرز کو ایسے اعصابی عوارض سے قدرے محفوظ قرار دیا گیا ہے

لندن ، 20مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹ بال کھلاڑیوں میں الزائمر کی بیماری اور Dementia ڈیمنشیا (Chronic Traumatic Encephalopathy) کی دیگر اقسام کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم گول کیپرز کو ایسے اعصابی عوارض سے قدرے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔طبی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق باقی عام لوگوں کے مقابلے میں اعلی سطح کے فٹبال کھلاڑیوں میں ڈیمنشیا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ڈیمنیشیا ایک ایسی بیماری ہے جس سے قوت حافظہ تقریبا سلب ہو جاتی ہے اور متاثر ہ شخص کی یاد داشت بہت کمزور ختم ہو جاتی ہے۔

تحقیق کی تفصیلات طبی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔ اس میں 1924 اور 2019 کے درمیان کے سویڈن کے اعلی سطح کے 6,000 سے زیادہ مرد فٹبال کھلاڑیوں کے طبی ریکارڈ کا موازنہ 56,000 سے زیادہ غیر فٹبال کھلاڑیوں سے کیا گیا ہے۔سویڈن میں کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے محققین نے پایا کہ کنٹرول گروپ کے مقابلے میں فٹ بالرز کو الزائمر کی بیماری اور ڈیمنشیا کی دیگر اقسام ہونے کا امکان ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ سے وابستہ پیٹر یوڈا، جنہوں نے اس تحقیق کی سربراہی کی، کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلی طبقے کے مرد کھلاڑیوں میں دماغی خرابی پیدا ہونے کا سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق چونکہ گول کیپرز کو شاذ و نادر ہی گیند کو سر سے مارنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے وہ اس سے محفوظ ہوتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button