یہ پچھلے دروازے سے این آر سی ہے، اسد الدین اویسی نے مرکز کو بنایا نشانہ
تلنگانہ ، 25اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسے مسلم مخالف قرار دیا ہے۔این آر سی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اویسی نے منگل کو ٹویٹ کیا کہ مودی حکومت کی پالیسی مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔صرف مسلمانوں کی ہی پروفائلنگ کیوں؟ ہندو برادری بھی سرحدی علاقوں کے قریب رہتے ہیں۔ کیا ان کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے؟ کیا پچھلے دروازے سے این آرسی کو نافذ کیا جا رہا ہے۔اسدالدین اویسی نے مزید لکھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے پر غیر مسلموں کو گرفتار کیے جانے کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سکیورٹی اہلکار اور یہاں تک کہ بی جے پی کا ایک کارکن بھی شامل ہے۔
اویسی نے راجستھان کے متصل علاقوں میںڈیموگرافک اور اکنامک پروفائل کے معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ مرکزی سیکورٹی ایجنسیاں مبینہ طور پر پاکستان کی سرحد کے ساتھ راجستھان میں مسلم اکثریتی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی آبادیاتی اور اقتصادی پروفائلز تیار کر رہی ہیں۔ مرکزی حکومت نے یہ قدم کانگریس کے زیر اقتدار راجستھان میں 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اٹھایا ہے۔ تاہم انٹیلی جنس بیور کے ایک سابق جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوںہے کہ یہ اسمبلی انتخابات سے پہلے لوگوں کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔تاہم وزارت داخلہ کے ذرائع نے اسے ایک معمول کا عمل قرار دیا جس کا مقصد انتہا پسند عناصر اور سرحد پر سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔



