
ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ شاہ رخ خان کے لتا منگیشکر کو خراج تحسین پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر ’جاہلوں ‘کی ہلڑ بازی
نئی دہلی ،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ روز ممبئی میں لتا منگیشکر کی مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ جس میں پی ایم مودی ،معروف نغمہ نگار جاوید اختر، شاہ رخ خان، سچن تندولکر، رنبیر کپور، شردھا کپور، شنکر مہادیون جیسے بڑے ستارے خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے تھے۔تاہم اس دوران شاہ رخ خان کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
شاہ رخ صبح سے ہی سوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک طبقہ شاہ رخ پر نازیبا الزامات لگا رہا ہے۔ شاہ رخ خان پر لتا منگیشکر کی آخری رسومات کے دوران پھونک مار کر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ دوسری جانب دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ دعا(آیاتِ قرآنی ) پڑھنے کے بعد شاہ رخ نے پھونکا تھا۔
اس کے بعد لوگوں نے بغیر سوچے شاہ رخ کو ٹرول کرنا شروع کر دیا۔ آج صبح سے سوشل میڈیا پر بھی یہی بات زیر بحث ہے۔لتا منگیشکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، شاہ رخ خان کو دونوں ہاتھ پھیلا کر اسلامی رسومات کے مطابق لتا منگیشکر کے لیے فاتحہ پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ماسک ہٹا کر پھونکا جو کہ فاتحہ پڑھنے کے بعد پھونکنے کرنے کا رواج ہے۔ اس کے بعد انہوں نے عظیم گلوکار کے پاؤں بھی چھوئے۔
اسی دوران شاہ رخ کی منیجر پوجا ددلانی ہاتھ جوڑ کر جھکتی نظر آئیں۔سوشل میڈیا پر اس طرح کا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب کچھ سیاستدانوں نے شاہ رخ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے قابل اعتراض پوسٹ کئے،تاہم سوارا بھاسکر نے بھی اس پر اپنا ردعمل دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہر روز یہ نفرت پیدا کرنے والا چنٹودکھ کی گھڑی میں اپنی نفرت کو جہالت میں چھپاکر تنگ دلی کا ثبوت دیتا ہے۔
شاہ رخ خان دعاکر رہے ہیں لیکن ان نفرت کے حاملین کی ذہنیت اسی قابل ہے.وہیں سنجے راؤت نے شاہ رخ خان کی حمایت میں بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو اس موقع پر اداکار کو ٹرول کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لتا جی ایک عظیم شخصیت تھیں۔
اشوک پنڈت نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھاکہ لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شاہ رخ خان پر گندے الزامات لگانا غلط ہے، جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔
شاہ رخ خان نے دعا کی اور پھر ان کی روح کے سکون کے لیے پھونکا ہے ، ہمارے ملک میں ایسی نفرت نہیں پھیلائی جا سکتی۔خیال رہے کہ اس سلسلے میں نام نہاد مین اسٹریم میڈیا بھی کود پڑا ہے ، جو آئے دن کسی نہ کسی طرح مسلم پہلو کو نشانہ بناتا رہتا ہے ۔



