بین الاقوامی خبریں

سابق مصری صدر انور سادات کی بیگم جہان کی زندگی کے خفیہ گوشے

اسرائیل کے ساتھ سب سے پہلے صلح کرنے والے مصری صدر سادات کی بیوہ چل بسیں

قاہرہ ، 10جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مصر کے سابق صدر انور سادات  (former Egyptian President Anwar Sadat) کی اہلیہ جہان سادات (Jehan Sadat) کل جمعہ کے روز انتقال کر گئیں۔ سادات کی ہلاکت کے روز خاتون اول کا تصرف ان کی قوی شخصیت کا واضح ثبوت ہے۔ جہان نے سابق صدر حسنی مبارک کو خود اپنے شوہر کی وفات کی خبر دی۔ مبارک اس وقت اسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں سادات کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔ اس موقع پر جہان نے کہا میرے شوہر 11 برس مصر کے صدر رہے۔

اب انور سادات جا چکے ہیں ، وہ زندہ نہیں رہا تاہم #مصر ابھی زندہ ہے ، اب یہ ذمے داری آپ کو منتقل ہو گئی ہے۔جہان کی گزارش پر حسنی مبارک نے انور سادات کی موت کی خبر کو 7 گھنٹوں تک خفیہ رکھا۔جہان نے #مبارک کو بتایا کہ ان کے شوہر اپنے آبائی گاؤں ابو الکوم میں دفن ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ تاہم مبارک نے کہا کہ ہم اتنی #عظیم شخصیت کو ایسی جگہ کیوں #دفن کریں جہاں لوگوں کے پہنچنے میں مشکل درپیش ہو۔

ہمیں سادات کو ان کی ہلاکت کی جگہ پر دفن کرنا چاہیے تا کہ ہر سال 6 اکتوبر ک پریڈ کے موقع پر ہر مصری فوجی اور افسر یہاں سے گزرتے ہوئے انہیں سلامی دے۔ابو بکر حامد مصر کے دو سابق صدور انور سادات اور #حسنی #مبارک کے خصوصی صدارتی طیارے کے کپتان رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہان سادات نہایت اعلی تصرفات کی حامل ایک عظیم خاتون تھیں۔ وہ اپنے #شوہر اور وطن سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔

#ابو بکر نے ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جب انور سادات امن مذاکرات کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم مناحم بیجین سے ملنے کے لیے اسوان شہر پہنچے تو جہان ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی سادات کو تنہا نہیں چھوڑا کیوں کہ اندیشہ تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیز بات پر سادات طیش میں آ جاتے۔ اسوان میں 10 روز قیام کے دوران جہان خود اپنے شوہر کے کھانے پینے اور کپڑوں کا خیال رکھتی تھیں۔

اکتوبر 1973کی جنگ کے دوران میں خاتون اول خود ہسپتالوں میں زخمیوں سے ملاقات کے لیے جایا کرتی تھیں۔ اس پر جہان کو دلیروں کی ماں کا خطاب دیا گیا۔ابو بکر کے مطابق جہان سادات بچوں اور خواتین کی خدمت کے لیے خیراتی اداروں کے قیام پر اصرار کرتی تھیں۔ مزید یہ کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کو اپنے بیٹے شمار کرتی تھیں۔ جہان نے یورپ کے بھی کئی سفر کیے تا کہ یہ جانا جا سکے کہ یورپی ممالک #جنگ کے زخمیوں کے ساتھ کس طرح کا تعامل رکھتے ہیں۔

مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق جہان سادات ایک مصری ہسپتال میں کینسر کا مقابلہ کر رہی تھیں۔جہان سادات کے اہل خانہ نے مصری میڈیا کو بتایا کہ ان کا گذشتہ سال امریکہ میں طبی علاج ہوا لیکن اس کے فوراً بعد وہ مصر واپس آ گئیں اور ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ان کی بیماری کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے دفتر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ جہان سادات مصری خواتین کے لیے ایک رول ماڈل رہی ہیں۔مصر کے صدر دفتر نے انہیں بعد از مرگ قومی ایوارڈ دینے اور قاہرہ میں ایک اہم شاہراہ کا نام ان کے نام پر رکھنے کا بھی اعلان کیا۔

جہان صفوت رؤف قاہرہ میں ایک متوسط مصری طبقے سے تعلق رکھنے والے والد اور ایک برطانوی والدہ کے ہاں اگست 1933 میں پیدا ہوئیں۔جہان سادات نے 1949 میں انور سادات سے شادی کی جو اس وقت ایک فوجی افسر تھے لیکن 1970 سے مصر کے صدر کی حیثیت سے 1981 میں قتل ہونے تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔انور اور جہان سادات کے چار بچے تھے جن میں تین بیٹیاں نوحہ، گیہان،لبنی اور ایک بیٹا جمال تھے۔جہان سادات نے تقریباً تین دہائیوں کی جنگ کے بعد 1979 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے اپنے شوہر کے فیصلے کا مستقل طور پر دفاع کیا تھا۔

ایک ایسا اقدام جو اندرونی اور علاقائی طور پر متنازع تھا۔اپنے شوہر کی حکومت کے دوران جہان سادات نے خود کو خواتین کے حقوق کی ایک مضبوط وکیل کے طور پر قائم کیا اور ایسے قوانین پر زور دیا جس سے خواتین کو طلاق کی صورت میں نان نفقہ اور بچوں کو تحویل میں رکھنے کا حق ملا۔انہوں نے اپنے رضاکارانہ کام اور رفاہی سرگرمیوں سے بھی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔

1970 کی دہائی میں ان کی اعلی ویزبیلٹی پر مبصرین نے تنقید کی تھی جنہوں نے ان پر سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے شوہر کے منصب کا استحصال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ 1977 میں جہان سادات نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی ادب میں بی اے کی سند حاصل کی۔ 1986 میں اسی یونیورسٹی میں تقابلی ادب میں پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button