سرورق

مدارس سے سرکاری اسکولوں میں بچوں کی نہیں ہوگی منتقلی، فنڈنگ بھی ملے گی: سپریم کورٹ

مدارس سے سرکاری اسکولوں میں بچوں کی نہیں ہوگی منتقلی، فنڈنگ بھی ملے گی: سپریم کورٹ

نئی دہلی ، 21کتوبر (ایجنسیز)

سپریم کورٹ نے رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے غیرمنظورشدہ مدرسوں کی منظوری واپس لینے اور طلبا کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے اور مدرسوں کو بند کرنے کے سلسلے میں قومی حقوق اطفال کے تحفظ سے متعلق کمیشن (این سی پی سی آر) کی جانب سے جاری کردہ خط پر عملدرآمد پر مرکز اور ریاستی حکومتوں پر روک لگانے لگانے کا آج فیصلہ سنایا چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس جے بی پارڈی والا اور منوج مشرا کی بنچ نے جمعیۃ علماء ہند کی درخواست پر یہ حکم دیا۔ درخواست گزار کی طرف سے بحث کرتے ہوئے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کے خط اور اتر پردیش اور تریپورہ سمیت کچھ ریاستوں کے مدارس سے متعلق مذکورہ کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔

مسلم تنظیم نے اتر پردیش اور تریپورہ کی حکومتوں کی کارروائی کو چیلنج کیا ہے، جنہوں نے غیر تسلیم شدہ مدارس سے طلباء کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ این سی پی سی آر نے 7 جون 2024 کو اتر پردیش حکومت کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ہدایت دی گئی تھی کہ آر ٹی ای (تعلیم کا حق) ایکٹ کی تعمیل نہ کرنے والے مدارس کی منظوری کو واپس لیا جائے۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنے حکم میں کہا کہ این سی پی سی آر کی 7 جون 2024 اور 25 جون کی خط و کتابت کے مطابق اتر پردیش کے چیف سکریٹری اور محکمہ تعلیم کی 26 جون کی خط و کتابت، وزارت تعلیم، حکومت ہند ”10 جولائی کو تریپورہ کے سکریٹری کے ذریعہ جاری کردہ اور 28 اگست کو تریپورہ حکومت کے ذریعہ جاری کردہ تبادلہ خیالات پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

جمعیۃ علماء ہند نے اتر پردیش اور تریپورہ حکومتوں کے حکم کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ یوپی حکومت کا حکم این سی پی سی آر رپورٹ کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔ اس میں آر ٹی ای 2009 پر عمل نہ کرنے والے مدارس کی پہچان منسوخ کرنے اور تمام مدارس کی چھان بین کرنے کو کہا گیا تھا۔ سی جے آئی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی عرضی کا نوٹس لیا اور ریاستوں کی کارروائی پر روک لگا دی۔نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے ستمبر کے مہینے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ مدارس کی فنڈنگ بند کی جائے۔ یہ حق سے تعلیم کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے ہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ مدارس کی توجہ دینی تعلیم پر ہے جس کی وجہ سے انہیں ضروری تعلیم نہیں ملتی اور وہ دوسرے بچوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں، این سی پی سی آر کے صدر پریانک کاننگو نے کہا تھا کہ انھوں نے کبھی بھی ایسے مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا، بلکہ انھوں نے سفارش کی تھی کہ ان اداروں کو دی جانے والی سرکاری فنڈنگ روک دی جائے کیونکہ یہ غریب مسلمان بچوں کو تعلیم سے محروم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غریب پس منظر والے مسلمان بچوں پر اکثر سیکولر تعلیم کے بجائے مذہبی تعلیم لینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ یہی نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تمام بچوں کے لیے یکساں تعلیمی مواقع کی وکالت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button