رفح میں داخل ہوکر حماس کے خاتمے کا مشن مکمل کریں گے: نیتن یاھو
امدادی ٹرک کے منتظر چھ فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے جاں بحق
مقبوضہ بیت المقدس ،15مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجی اڈے ’’عوفر‘‘ کے دورے کے دوران ایک بیان میں فوج کو رفح میں داخل ہونے سے روکنے کے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ یروشلم پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے 636 فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کے کمانڈروں اور فوجیوں سے ملاقات کی۔ نیتن یاھو نے کہا جس وقت اسرائیلی فوج رفح میں لڑائی جاری رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، اسی دوران ہمیں علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے میں اس دباؤ کا مقابلہ کروں گا۔نیتن یاہو نے مزید کہاکہ ہم رفح میں داخل ہوں گے اور اسرائیلی عوام کی سلامتی کو بحال کرنے اور ملک کیلئے مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے حماس کو ختم کرنے کے اپنے مشن کو مکمل کریں گے۔
واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم امریکیوں کو اپنے موقف اور رجحانات پر قائل کرنے کے لیے دباؤ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔واشنگٹن میں اسرائیل کے حامی گروپ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کو ویڈیو کے ذریعے دی گئی ایک تقریر میں انہوں نے تل ابیب کے موقف کا بھرپور دفاع کیا اور زور دیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کیا ہے۔
یاہو نے یہ بھی کہا کہ اتحادی اور دوست یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ حماس کو تباہ کرنے کے اسرائیل کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں۔ پھر وہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔کئی بین الاقوامی تنظیموں، مغربی اور عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر کوئی بھی حملہ بڑی تباہی کا باعث بنے گا۔ رفح میں اس وقت تقریبا 14 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ پوری پٹی میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے اور اس لیے رفح کے بے گھر افراد کو منتقل نہیں کیا جا سکتا اور اس مسئلے پر بات کرنا ایک خیالی بات ہے۔ مصر نے بھی رفح پر زمینی حملے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے تناظر میں انتباہ کیا ہے۔غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال بدستور ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 22 لاکھ افراد کی آبادی میں بے بڑا حصہ بڑے پیمانے پر فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ غزہ میں امداد کا داخلہ اسرائیلی اجازت سے مشروط ہے۔
کیا رفح پر ممکنہ اسرائیلی حملہ امریکی ہتھیاروں کی فراہمی محدود کرنے کا سبب بن سکتا ہے؟
نیویارک،15مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)متعدد بار مایوسی کے بڑھتے ہوئے زبانی اظہار، اور میڈیا میں آنے والی رپورٹوں سے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن خود کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے دور کرتے جا رہے ہیں۔تاہم وہ اس عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو حماس کے خلاف اس جنگ میں مکمل فتح حاصل کرنے سے باز نہیں رکھ سکے گا۔یہ اختلاف ان قیاس آرائیوں کو ہوا دے رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے لیے امریکی ہتھیاروں کی سپلائی محدود کر دے۔
خاص طور پر اس صورت میں اگر نیتن یاہو حماس کے خلاف رفح میں اپنی کارروائی مکمل کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں جہاں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔اس جنگ میں اسرائیل کے طرز عمل پر اثر ڈالنے کے لیے فوجی امداد پر شرائط عائد کرنا، واشنگٹن کا مضبوط ترین حربہ ہو گا، جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 31 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ایسے میں جب کہ امریکی میڈیا نے حکومت کے بے نام ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس آپشن پر غور کر رہے ہیں، سرکاری طور پر وائٹ ہاؤس نے ان مفروضوں پر کچھ کہنے سے انکار کردیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ رفح کے بارے میں ہمارا جو موقف ہے صدر اس کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ رفح میں ایک ایسی فوجی کارروائی جس میں شہریوں کا تحفظ نہ ہو سکے، جو انسانی امداد کے اہم راستوں کو کاٹ دے اور جو اسرائیل اور مصر کی سرحد پر بے تحاشا دباؤ ڈالے، کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی صدر حمایت کر سکیں۔بائیڈن خود اس بارے میں ابہام کا شکار تھے کہ آیا رفح پر حملہ ایک سرخ لکیر کو کراس کرنے کے مترادف ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس طریقہ کار کے لیے نیتن یاہو حکومت کی سرزنش بھی کی جو اس نے سات اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کے حملے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کے لیے اختیار کیا۔سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیل میں 1200 کے لگ بھگ لوگ مارے گئے اور 240 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔بائیڈن نے ایم ایس این بی سی کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کا دفاع اب بھی نازک اہمیت کا حامل ہے، اس لیے وہاں کوئی سرخ لکیر نہیں ہے، جہاں میں تمام ہتھیاروں کی فراہمی روک دوں اور ان کے پاس اپنی حفاظت کے لیے’آئرن ڈوم‘ نہ ہو۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل 30 ہزار مزید فلسطینیوں کو ہلاک نہیں کر سکتا۔ گزشتہ ہفتے ایک ڈیمو کریٹک سینیٹر سے گفتگو کرتے ہوئے جسے ایک کھلے ہوئے مائیکروفون پر سنا گیا صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو بتا دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دو ٹوک گفتگو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اور جب ایک معاون نے ان کو بتایا کہ انہیں سنا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا اچھا ہے یہ اچھی بات ہے۔نیتن یاہو پر بائیڈن کی بڑھتی ہوئی تنقید ایسے میں ہو رہی ہے جب نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے ان کی مہم میں تیزی آتی جا رہی ہے۔وہ ریپبلیکنز کو اسرائیل کے حامی ووٹ حاصل کرنے کا موقع دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ لیکن انہیں ترقی پسند ڈیموکریٹس، نوجوان ووٹروں، مسلمانوں اور عرب امریکیوں کو بھی خود سے دور ہونے سے روکنا ہے۔نیتن یاہو پر ان کی تنقید فلسطینیوں کے حامی امریکیوں کو خوش نہیں کر سکتی، خاص طور پر ایسی صورت میں جب جلد ہی جنگ بندی نہ ہو پائے۔
بائیڈن کی اس تنقید کے جواب میں کہ نیتن یاہو اسرائیل کی مدد سے زیادہ اسے نقصان پہنچا رہے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے پولیٹیکو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں اسرائیلی عوام کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا اگر بائیڈن کا مطلب یہ ہے کہ میں اکثریت کے خلاف ذاتی پالیسی پر عمل کر رہا ہوں، اکثریت کی خواہش کے خلاف، اور یہ کہ اسرائیل کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے تو وہ دونوں باتوں میں غلط ہیں۔اسرائیل کے ڈیمو کریسی انسٹیٹیوٹ کے ایک عوامی جائیزے کے مطابق صرف 15 فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو جنگ کے بعد اقتدار میں رہیں۔امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے اس ہفتے کے اوائل میں جاری ہونے والے خطرے کے سالانہ جائزے کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے حکومت کرنے کی نیتن یاہو کی صلاحیت کے بارے میں عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امدادی ٹرک کے منتظر چھ فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے جاں بحق: وزارت صحت
غزہ،15مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ سے امدادی ٹرکوں کے منتظر چھ فلسطینی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ بدھ کی رات گئے کویت گول چکر پر فلسطینی امدادی سامان لینے کے لیے بھاگ رہے تھے کہ اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کر دی۔
29 فروری کو فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے 100 سے زائد فلسطینیوں کو اُس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ غزہ شہر کے قریب امدادی سامان کی ترسیل کا انتظار کر رہے تھے۔اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کو گھیرے میں لینے والے ہجوم کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کو روند دیا گیا۔فلسطینی طبی ماہرین نے بتایا کہ جمعرات کو وسطی غزہ کے دیر البلاہ میں اسرائیلی میزائل نے ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیل کی فضائی و زمینی بمباری رات بھر انکلیو کے اطراف کے علاقوں بشمول جنوب میں رفح میں جاری رہی، جہاں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 69 فلسطینی ہلاک اور 110 زخمی ہوئے۔جنگ اب اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کم از کم 576,000 افراد قحط کے دہانے پر ہیں اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ محصور علاقے تک مزید رسائی کی اجازت دے۔ایک بحری جہاز امداد لے کر غزہ کے قریب پہنچ رہا ہے۔\
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائیاں
غزہ،15مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی فوج نے جمعرات کو کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں زمینی کارروائیاں اور فضائی حملے کر رہی ہے۔اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران خان یونس میں چھاپے مار کر راکٹ لانچروں کے ذخیرے کو تباہ کر دیا گیا۔امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران فلسطینی شہریوں کی بہتری اور فلاح کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے ایک ورچوئل کانفرنس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی حکومت شہریوں کے تحفظ اور لوگوں کو ضرورت میں مدد فراہم کرنے کو اپنی ترجیج بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اس کام کو اولیت دی جانی چاہیے، جو وہ اپنے ملک کے تحفظ اور حماس سے نمٹنے کے لیے کر رہے ہیں۔
اعلیٰ امریکی سفارت کار نے غزہ کے لیے نئی آبی راہداری کے قیام کے سلسلے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے قبرص، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے وزراء سے بات کی۔بلنکن نے کہا کہ جب یہ راہداری قائم ہو جائے گی تو اس کے ذریعے ہم روزانہ خوراک کے 20 لاکھ پیکٹوں کے ساتھ ساتھ ادویات، پانی اور دیگر انسانی امداد کی تقسیم کر سکیں گے۔امریکی فوج نے غزہ کی جانب ایک بحری جہاز روانہ کیا ہے جو مزید امدادی ٹرکوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے غزہ کے ساحل پر ایک عارضی گھاٹ تعمیر کرے گا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کی تکمیل میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔



