سرورققومی خبریں

صفائی مشین کی مبینہ چوری کے الزام میں ضمانت : کیا سابق ایم پی اعظم خان اور عبداللہ اعظم جیل سے باہر آئیں گے؟

16 مہینوں سے زیادہ جیل میں گزار چکے ہیں

لکھنؤ، 14فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)صفائی مشین کی مبینہ ’چوری‘ کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہیں گے۔ سابق ایم پی اعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم خان 18 اکتوبر 2023 سے جیل میں بند ہیں۔ وہ 16 مہینوں سے زیادہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ان دونوں باپ بیٹے پر نگر پالیکا پریشد رام پور کی صفائی مشین کی بازیابی کے معاملے میں ملزم تھے، جسے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کیمپس سے برآمد کیا گیا تھا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں محمد اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان دونوں کو ضمانت دے دی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کئی قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔اعظم خان کے وکیل ناصر سلطان نے کہا کہ ضمانت ملنے کے باوجود دونوں کیخلاف کئی اور مقدمات زیر التوا ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری رہائی مشکل ہے۔ ناصرسلطان نے کہا کہ اعظم خان کو ڈنگر پور میں سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کے نام پر درجنوں مکانات کو زبردستی خالی کرانے اور مسمار کرنے کے معاملے میں دس اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔وکیل ناصر سلطان کے مطابق اس کے علاوہ ان کے خلاف اب بھی نصف درجن سے زائد مقدمات چل رہے ہیں۔

اعظم خان اس وقت دشمن جائیداد(enemy property) کیس میں سیتا پور جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ عبداللہ اعظم خان ہردوئی جیل میں بند ہیں۔وکیل ناصر سلطان نے کہا کہ اعظم خان کو دی گئی سزا کیخلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل زیر التوا ہیں، اس کے علاوہ اعظم خان کچھ دیگر کیسوں میں زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپیل کا فیصلہ ہونے اور ان مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد ہی ان کی رہائی ممکن ہوگی۔

وکیل ناصر سلطان کا کہنا ہے کہ جہاں تک عبداللہ اعظم خان کا تعلق ہے،سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود دشمن جائیداد (enemy property)کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔وکیل ناصر سلطان نے کہاکہ عبداللہ اعظم خان نے رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے، جس کی سماعت جمعہ کو ہوگی۔ اگر عدالت انہیں ضمانت دے دیتی ہے تو وہ جیل سے رہا ہو سکتے ہیں۔2017 میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اعظم خان اور ان کے خاندان کے افراد کیخلاف 100 سے زیادہ قانونی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button