بین ریاستی خبریںسرورق

بنگال : گنگولی ، متھن چکرورتی، بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں؟

گنگولی

بنگال میں بھاجپا کی سیاسی اننگ

 کولکاتہ: (اردودنیا.اِن) بنگال انتخابات کے تناظر میں بنگال میں بڑے رہنماؤں کے دورے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں 7 مارچ ایک بڑی تاریخ ثابت ہوگی، جب وزیر اعظم نریندر مودی کولکاتہ کے تاریخی پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی کریں گے۔ اس ریلی میں بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی ممکنہ طور پر بی جے پی میں شامل ہوں گے ۔

پارٹی کے معتمد و مقرب ذرائع نے ہندی روزنامہ دینک بھاسکر سے گفتگو میں اس کی تصدیق کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس دن بنگال کی کئی ساری مشہور شخصیات بشمول سورواور متھن چکرورتی ، پروسین جیت جیسے لوگ بی جے پی میں شامل ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق گنگولی کو بی جے پی میں لانے کا اسکرپٹ دسمبر 2019 میں ہی لکھا گیا تھا۔

اس وقت کے پارٹی صدر امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کی رضامندی کے بعد اس کی تیاری شروع کردی تھی۔امت شاہ نے سب سے پہلے گنگولی کو بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن سے ہٹا کر انہیں بی سی سی آئی کا صدر مقرر کیا، امت شاہ کا بیٹا جے شاہ اس وقت بی سی سی آئی کا سکریٹری منتخب ہوا تھا۔ اس کے بعد جے شاہ نے اس مہم کو آگے بڑھایا۔

7 مارچ کو بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں متھن چکرورتی, سنگھ سربراہ موہن بھاگوت سے فروری میں کی تھی ملاقات

گنگولی

حال ہی میں گنگولی نے بنگال کے گورنر جگدیپ دھن کھر سے ملاقات کی۔ اس سے قبل وہ وزیر اعظم سے بھی مل چکے ہیں۔ ان کے بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں کئی دن سے میڈیا میں بحث جاری ہے ،

لیکن بی جے پی اور گنگولی نے اس پر خاموشی اختیار رکھی ہے۔انتخابات کے بعد بی جے پی نے حکومت اور پارٹی کی حکمت عملی بھی وضع کرلی ہے، اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے ، تو پارٹی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کا وزیر اعلیٰ بننا یقینی ہے۔

گھوش کا تعلق بنگال سے ہے اور وہ ٹی ایم سی کے خلاف اپنے بیانات میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔اترپردیش کے فارمولے کے تحت نئی حکومت میں دو نائب وزیر اعلی بھی ہوں گے۔

ٹی ایم سی سے بغاوت کر کے بی جے پی میں آنے والے شوبھندو ادھیکاری اور سورو گنگولی کویہ ذمہ داری مل سکتی ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو گنگولی کو ایک محفوظ نشست سے اسمبلی میں بھیجا جائے گا۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے۔ دریں اثنا کہا جارہا ہے کہ فلم اداکار اور ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ متھن چکرورتی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متھن چکرورتی 7 مارچ کو کولکاتہ کے بریگیڈ گراؤنڈز میں ہونے والی پی ایم مودی کی ریلی میں بھی شریک ہوں گے۔

بتادیں کہ متھن چکرورتی کے بی جے پی میں شامل ہونے کولے کر پچھلے کئی دنوں سے قیاس آرائیاں جاری تھیں، لیکن آج یہ قیاس آرائیاں اس وقت ختم ہوگئیں جب متھن چکرورتی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ 7 مارچ کو بی جے پی میں شامل ہونے کولکاتہ پہنچ رہے ہیں۔80 کی دہائی کے ڈسکو ڈانسر بوائے کے نام سے مشہور متھن ڈا حال ہی میں اس وقت سرخیوں میں آئے جب سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے 16 فروری کو اپنی رہائش گاہ پر متھن چکرورتی سے ملاقات کی۔ تب سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا۔

اس سے قبل متھن چکرورتی سال 2019 میں ناگپور میں سنگھ ہیڈ کوارٹرز بھی گئے تھے۔ پھر انہوں نے سنگھ ہیڈ کوارٹر میں تقریبا تین گھنٹے گزارے اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے بھی ملاقات کی۔ متھن چکرورتی نے خراب صحت کی وجہ سے سن 2016 میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سے پہلے شاردا چٹ فنڈ کمپنی کے اسکینڈل میں ان کا نام سامنے آیا تھا۔

متھن چکرورتی شاردا چٹ فنڈ کے برانڈ ایمبیسیڈر تھے ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انہیں نوٹس بھیجا تھا۔اب ایک بار پھر متھن چکرورتی سیاست میں انٹری لے رہے ہیں۔ 7 مارچ کو وہ کولکاتہ کے بریگیڈ گراؤنڈز میں ہونے والی وزیر اعظم مودی کی ریلی میں بھی شریک ہوں گے۔ تاہم ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے، اس لئے اس میں بھی شک ہے کہ آیا وہ سیاست میں مکمل طور پر متحرک رہیں گے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button