الابامہ میں نائٹروجن کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں؟
نیا طریقہ اختیار کرنے کی یہ پہلی کوشش ہو گی۔
نیویارک، 24جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی ریاست الابامہ سزائے موت پانے والے ایک مجرم کینتھ یوجین اسمتھ کو اس ہفتے نائیٹروجن گیس کے ذریعے یہ سزا دینے والی ہے بشرطیکہ عدالتیں اسے روک نہ دیں۔اس طریقہ کار میں ایک گیس ماسک استعمال کیا جائے گا جو نائیٹروجن کے ذریعے اس ہوا کو روک دے گا جس میں سانس لی جا سکتی ہے۔ یعنی اسے آکسیجن سے محروم کر دے گا۔ اگر اس پر عمل ہو سکا تو یہ امریکہ میں اس طریقے سے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہو گی۔
الابامہ کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے گزشتہ ہفتے وفاقی اپیل عدالت کے ججوں کو بتایا کہ آکسیجن کو ختم کرکے نائیٹروجن کے ذریعے دی گئی موت کی سزا پر عمل در آمد ایک ایسا طریقہ ہے جس میں سزا پانے والے کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن بعض ڈاکٹر اور اس طریقہ کار کے ناقد کہتے ہیں کہ جب وارڈن اس طریقے پر عمل کرے گا تو 58 سالہ اسمتھ در حقیقت کیا محسوس کرے گا، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔
امریکی کالج برائے کریکشنل فزیشینز کے صدر ڈاکٹر جیفری کیلر نے ایک ای میل میں لکھا کہ سزا پانے والا شخص خود نائیٹروجن گیس سے کیا محسوس کرے گا۔اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ یہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک تجرباتی طریقہ کار ہے۔ڈاکٹر کیلر کہتے ہیں کہ اس طریقہ کار میں سزا پانے والے شخص کو آکسیجن سے محروم کرکے نائیٹروجن دینا اس سے ذرا ہی مختلف ہے جیسے کسی کے سر پر پلاسٹک کا تھیلا پہنا دیا جائے۔ریاست الابامہ نے وفاقی عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ نائیٹروجن گیس سیکنڈوں میں اسمتھ کو بیہوش کردے گی اور منٹوں میں اسے ہلاک کردے گی۔
1982 میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کے طریقے کے متعارف ہونے کے بعد، ایک نیا طریقہ اختیار کرنے کی یہ پہلی کوشش ہو گی۔ الابامہ، مسی سپی اور اوکلا ہوما نے اس طریقے سے یعنی نائیٹروجن ہائی پوکسیا کے ذریعے سزائے موت دینے کا اختیار دیا ہے۔بعض ریاستیں ایسے میں سزائے موت دینے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں جبکہ مہلک انجکشن میں استعمال ہونے والی دوائیں ملنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔



