اینڈی مکرجی
آج کل ہندوستان دو سرفہرست ارب پتیوں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کے چرچے ہیں۔ دونوں کی دولت اور اثاثوں میں مسلسل اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ جہاں تک مکیش امبانی کا سوال ہے، وہ ساری دنیا میں پٹرو کیمیکلس زار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے شیئر ہولڈرس کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کا چیلنجنگ مشن شروع کررہے ہیں اور اس کے لئے وہ آئندہ تین برسوں میں صاف ستھری توانائی اور فیول کے شعبہ میں 750 ارب روپئے (10 ارب ڈالرس) کا سرمایہ مشغول کررہے ہیں۔
ہندوستان کے سب سے بااثر اور طاقتور صنعت کار کی جانب سے کی جانے والی یہ سرمایہ کاری ایسا لگتا ہے کہ کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہے اور یقینا ایسا ہی ہے کیونکہ انہوں نے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران 44 ارب ڈالرس سرمایہ کاری کیلئے جمع کئے اور اپنی فلیگ شپ ’’ریلائنس انڈسٹریز لمیٹیڈ‘‘ کی جو بیالنس شیٹ پیش کی ، وہ 180 ارب ڈالرس کی بیالنس شیٹ رہی ۔
اس بیالنٹس شیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نقد قرض سے پاک ہے۔
ویسے بھی آپ کو بتادیں کہ ہندوستان کی وسیع تر کوئلہ سے تیار ہونے والے فیول کی معیشت کا جہاں تک سوال ہے،یہ امبانی کے ابتدائی فیصلوں کی ایک مثال ہے۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جو ہمارے ملک کی کوئلہ پر مبنی معیشت میں فیصلہ کن تبدیلی کیلئے کافی ہے۔ امبانی جو بھی منصوبہ بناتے ہیں، اسے جارحانہ انداز میں لاگو کرتے ہیں یا اس پر عمل آوری کرتے ہیں جیسے ریلائنس 4G ٹیلیکام وینچر ۔
ابتداء میں اس وینچر کو بھی اس شعبہ میں جہاں پہلے سے ہی ایک درجن کمپنیاں موجود ہیں، ’’میرا بھی داخلہ‘‘ کی حیثیت سے تجزیہ نگاروں نے تسلیم کیا، لیکن صرف پانچ برسوں میں امبانی کے ڈیجیٹل اسٹارٹ اَپ نے 420 ملین سے زائد سبسکرائبرس یا صارفین کا اعتماد حاصل کیا۔ اس طرح امبانی کی کامیابی نے اس شعبہ میں موجود بے شمار آپریٹرس کو دیوالیہ کردیا۔ اب مکیش امبانی کی کمپنیاں ’’گوگل کے الفا بیٹ انکلیوسیو‘‘ سے شراکت کے بعد دنیا کا سستا ترین اسمارٹ فون بہت جلد لانچ کرنے والی ہے۔
اگر شمسی توانائی میں اسی طرح کی بھوک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پھر ان کی مسابقتی کمپنیاں یا دعویداروں کو اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ امبانی نے اپنی کمپنی کے ذریعہ مختلف شعبوں میں کاروبار کو وسعت دی ہے اور بے شمار بیرونی کمپنیاں اس کے قریب آئیں اور بڑے پیمانے پر سرمایہ مشغول کیا۔
مثال کے طور پر فرانس کی ٹوٹل انرجی ایس ای کا نام لیا جاسکتا ہے جس نے اڈانی گرین انرجی لمیٹیڈ میں 20% شیئرس یا حصہ حاصل کیا ہے اور اڈانی کی اس فرم کی 25 گیگا واٹ توانائی پیدا کرنے والے شمسی توانائی کے پورٹ فولیو کے بعض پراجیکٹس میں راست سرمایہ مشغول کیا ہے اور تین برسوں کے دوران اس سرمایہ میں 50 گنا اضافہ ہوا، دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ وسیع تر کاروبار اور دولت کے حصول میں گوتم اڈانی بھی مکیش امبانی سے پیچھے رہنے والے نہیں۔
جاریہ سال کے اوائل میں اڈانی نے ایشیا کے دوسرے دولت مند ترین شخص کا اعزاز حاصل کیا۔ اڈانی چاہتے ہیں کہ ان کی کمپنی 2030ء تک قابل تجدید توانائی کی پیداوار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن جائے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مکیش امبانی ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے یا پھر ایک ہی شعبہ میں مقابلہ آرائی پر اُتر آئیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو اب تک ان دونوں ارب پتیوں نے جن کا تعلق #وزیراعظم #نریندر #مودی کی آبائی ریاست #گجرات سے ہے، اپنے علیحدہ علیحدہ شعبوں میں کام کیا ہے۔ امبانی نے ڈیٹا سے چلنے والے صارفین سے متعلق کاروبار میں خود کو مصروف کیا، جیسا کہ ریٹیل اور ٹیلیکام وغیرہ کے شعبہ۔ جوکہ اڈانی نے انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔
اگر یہ دونوں صاف ستھری توانائی یا کلین انرجی کے شعبہ میں اُتر جاتے ہیں تو پھر مقابلہ آرائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ امبانی کے منصوبوں کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2030ء تک 450 گیگا واٹ گرین انرجی کا جو ہدف مقرر کیا ہے، اس میں سے 100 گیگا واٹ برقی ان کی کمپنی پیدا کرے۔ ریلائنس انڈسٹری نے پچھلے 10 برسوں میں 90 ارب ڈالرس کے مصارف کرتے ہوئے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں مزید 200 ارب ڈالرس کا سرمایہ مشغول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس نے گیاس کی کھوج کے یا پھر گیاس کے ذخائر کی کھدائی سے لے کر ای۔کامرس کے شعبہ میں بھی خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ مکیش امبانی کی کمپنی یقینا ہندوستان کی سب سے بڑی بزنس انٹرپرائز ہے اور کلین انرجی سے کہیں زیادہ اس نے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو پھیلا رکھا ہے۔ اس معاملے میں وہ گوگل اور فیس بک کے ساتھ بھی قربت رکھتی ہے۔
حال ہی میں ریلائنس کمپنی نے سعودی عرب کی آئیل کمپنی ’’آرامکو‘‘ کے سربراہ یاسر الرمیان کو ریلائنس بورڈ میں شامل کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آرامکو کو ریلائنس کی جانب سے ہندوستان کے مغربی ساحل پر ریفائنری چلائی جاتی ہیں، اس میں ایک اہم پارٹنر بنانا ہے اور اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ یہ کمپنی کم سے کم کاربن والا تیل سربراہ کرنے کے قابل ہوں گی۔ اڈانی کی کمپنیاں ہندوستانی بندرگاہوں یا طیران گاہوں، کوئلہ کی کانکنی، برقی پیداوار و ترسیل، گیاس کی سربراہی، ویر ہاؤزنگ اور ڈیٹا سنٹرس تک اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے۔
اسی طرح جیو فون کا جو وجود عمل میں آیا ہے، اس کا مقصد زیومی کارپوریشن کو چیلنج کرنا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ گوگل کی جانب سے جو روایات ڈالی گئی ہیں، خاص طور پر صارفین کیلئے اس کے مطابق ہنوز 300 ملین ہندوستانی 2G فون کا استعمال کرتے ہیں ۔ نہ صرف امبانی ہندوستان میں 5G کے ساتھ چھا جانا چاہتے ہیں بلکہ وہ 5G خدمات کو دنیا بھر کے دیگر مواصلاتی آپریٹرس کو فروخت بھی کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں اُن کا مقابلہ ہووائی ٹیکنالوجی کمپنی سے ہوگا۔
اب بات کرتے ہیں اڈانی کی۔ اڈانی ترقی کی راہیں بڑی تیزی سے طئے کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ بندرگاہوں سے متعلق ان کی تجارت بہت زیادہ منافع بخش ثابت ہوئی ہے۔ آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہوگا کہ ماضی میں مکیش امبانی کو اپنے چھوٹے بھائی انیل امبانی سے خاندانی اثاثہ جات کی تقسیم کیلئے لڑنا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے تین بچوں کیلئے بھی کچھ نہ کچھ کررہے ہیں اور جاریہ ہفتہ انہوں نے ان چار گیگا فیکٹریوں کا اعلان کیا ہے، وہ بھی اپنے بچوں کو پیش نظر رکھ کر ہی کیا ہوگا۔
ایک فیکٹری سولار پیانلوں کی ہے، دوسری بیاٹریوں کی، تیسری گرین ہائیڈروجن اور چوتھی فیول سیلس کی ہے اور یہ تو آغاز ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مکیش امبانی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ جیو بہت جلد 5G لانچ کرے گی اور وہ 5G لانچ کرنے والی ہندوستان کی پہلی کمپنی ہوگا۔
ریلائنس جیو انفوکام، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹیڈ (آر آئی ایل) کی ایک شاخ ہے۔ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریلائنس جیو انفوکام ملک بھر میں 5G نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کے ساتھ بالکل تیار ہے۔ پچھلے جمعرات آر آئی ایل کے صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی نے بتایا تھا کہ ہماری کمپنی ملک میں 5G سہولت لانچ کرنے والی پہلی کمپنی ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی کمپنی 2G مکت یعنی 2G سے پاک مارکٹ بنانے پر کام کررہی ہے،
اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی طرح نعرہ بھی دیا ’’2G مکت، 5G یوکت ہندوستان‘‘
دراصل کمپنی کی 44 ویں سالانہ جنرل میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے نئے جیو فائبر براڈ بیانڈ سرویس کی ترقی کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کے مطابق جیو نے ہندوستان میں اپنی 5G سلیوشنر کی آزمائش شروع کردی ہے اور اس نے اپنی غیرمعمولی رفتار کا مظاہرہ بھی کیا۔ یہی بھی کہا جارہا ہے کہ جیو فائبر اب تک 3 ملین مکانات میں نصب کیا جاچکا ہے،
اس میں سے 2 ملین تو گزشتہ ایک سال کے دوران نصب کئے گئے۔ مکیش #امبانی کے مطابق جیو مستقبل میں اپنے 5G سلیوشنس کو طاقت بخشنے کیلئے #گوگل کلاؤڈ استعمال کرے گی اور ساتھ ہی وہ ریلائنس ریٹیل، جیو مارٹ، جیو سان، جیو ہیلتھ کو نئی طاقت بخشنے کا اعلان کیا۔
ارب پتیوں سے متعلق بلومبرگ اشاریہ کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ #مکیش امبانی 83.2 ارب ڈالرس (6.07 لاکھ کروڑ روپئے) کے مالک ہیں جبکہ یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایک ماہ قبل 23 مئی کو ان کی دولت کا تخمینہ یا اندازہ 77 ارب ڈالرس (5.26 لاکھ کروڑ روپئے) لگایا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریلائنس شیئرس یا حصص کی قدر میں 10% اضافہ کے بعد صرف ایک ہفتہ میں مکیش امبانی کی دولت میں 6.2 ارب ڈالرس کا اضافہ ہوا۔
اسی طرح #گوتم اڈانی کی دولت میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی نے چینی ارب پتیوں جیک ما ، زونگ شانشان کو دولت کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق امبانی کی دولت 84 ارب ڈالرس سے تجاوز کرگئی ہے جس کے نتیجہ میں وہ اس کرہ ارض کے 12 واں دولت مند ترین شخص بن گئے ہیں۔ جاریہ سال اب تک امبانی کی دولت میں 7.62 ارب ڈالرس کا اضافہ ہوا ۔
دوسری طرف اڈانی کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور وہ بڑھ کر 77 ارب ڈالر ہوگئی ۔ جاریہ سال ان کی دولت میں تاحال 43.2 ارب ڈالرس کا اضافہ ہوا۔ اس طرح بلومبرگ ڈیٹا کے مطابق اڈانی دنیا کے 14 ویں دولت مند ترین شخص بن گئے، تاہم آنے والے دنوں میں ایسا لگتا ہے کہ مختلف شعبوں میں امبانی اور اڈانی کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔



