امریکہ:ریکارڈ ساز یخ بستہ سردی اور برف باری، مزید58 ہلاک
نیویارک: (ایجنسیاں)متحدہ امریکہ میں تقریباً ایک ہفتے سے مؤثر سردی کی شدید لہرسے اموات کی تعداد بڑھتے ہوئے 58 تک ہو گئی ہے۔ریاست ٹیکساس سمیت ملک کے اندرونی اور جنوبی علاقے شدید برفباری، یخ بستہ ہواؤں ، اور نا مساعد موسمی حالات سے دو چار ہیں۔اطلاع کے مطابق شدید سردی اور مختلف حادثات سے اب تک 58 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یخ بستہ سردی سے کم از کم 6 افراد اپنے اپنے گھروں میں ٹھٹھر کر دم توڑ گئے ہیں ،تو اپنی گاڑیوں میں داخل ہوتے ہوئے گرمی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس سے متاثر ہوئے ہیں،جبکہ بعض اپنے گھروں میں گرمی کے لیے آگ جلاتے وقت اس کی زد میں آتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

امریکی قومی محکمہ موسمیات نے ٹیکساس میں ہفتے بھر کے دوران نقطہ انجماد سے 18 سینٹی گریڈ نیچے تک رہنے والے درجہ حرارت کے اختتام ِہفتہ سے دن کے وقت 10 سینٹی گریڈ تک بڑھنے نیز رات کے وقت دوبارہ سے منفی میں جانے کی پیشن گوئی کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ برف باری اور یخ بستہ ٹھنڈ کل سے جنوبی ریاستوں ورجینیا، میری لینڈ اور پنسلووینیا سے شمال مشرقی ریاستوں کی جانب بڑھ رہی ہے، ٹیکساس میں بجلی کی عدم ترسیل کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
45 تا 50 ارب ڈالر کا نقصان
ان ریاستوں میں پانی کی پا ئپ پھٹنے سے پانی کی عدم ترسیل کا سامنا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کل رات ٹیکساس کے گورنر ایبٹ سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی اضافی امداد کے معاملے پر بات چیت کی۔بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں شدید سردی کی لہر 45 تا 50 ارب ڈالر کے نقصان کا موجب بنی ہے۔



