بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

نوح اسپتال میں ڈاکٹروں کا چونکا دینے والا کارنامہ،اسقاط حمل کے لیے آئی خاتون کی زبردستی نس بندی

اسقاط حمل کے بہانے خاتون کی نس بندی، نوح کے ڈاکٹروں کی خطرناک لاپرواہی بے نقاب

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہریانہ کے نوح ضلع میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی سنگین لاپرواہی نے ایک خاندان کو صدمے میں ڈال دیا۔ اطلاعات کے مطابق تواڈو بلاک کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ایک خاتون اسقاط حمل کے لیے گئی تھی، لیکن ڈاکٹروں نے اس کے ساتھ نس بندی بھی کر دی۔

یہ خاتون سین پورہ گاؤں کی رہائشی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ سب سے پہلے ایک پرائیویٹ اسپتال گئی جہاں اسقاط حمل کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ بعد ازاں وہ تواڈو ہیلتھ سینٹر پہنچی، جہاں ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کی منظوری دے کر اسے داخل کر لیا۔ لیکن آپریشن کے دوران اس کی مرضی کے بغیر نس بندی بھی کر دی گئی۔

خاتون نے گھر والوں کو اس کی اطلاع دی جس پر وہ شدید برہم ہوگئے۔ اہل خانہ نے نس بندی واپس کھولنے کا مطالبہ کیا، لیکن ڈاکٹروں نے خون کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے فوری طور پر ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تین ماہ بعد نس بندی کو ریورس کیا جا سکے گا۔ اس کے بعد اسپتال میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔

ہنگامے کی خبر ملتے ہی وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی رکن سمن رانا موقع پر پہنچیں۔ ان کے ساتھ ضلع کے متعدد اعلیٰ افسران موجود تھے جن میں ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر عابد حسین، چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چیئرپرسن راجیش کمار چونکر اور ایم ڈی ڈی آف انڈیا (شکتی واہنی) کے ریجنل کوآرڈینیٹر سریندر راوت شامل تھے۔

کمیشن کی ٹیم نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہیلتھ سینٹر کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نہال سولنکی کو دو دن کے اندر رپورٹ تیار کرنے اور واقعے کی مکمل جانچ کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹر سولنکی نے کہا کہ خاتون کی طبی حالت کو دیکھتے ہوئے تین ماہ بعد نس بندی کو الٹ دیا جائے گا۔یہ واقعہ نوح کے طبی نظام پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، جہاں مریضوں کی زندگی اور ان کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔؎

خاتون کی پہلے ہی تین بیٹیاں ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بیٹے کی پیدائش کی امید رکھتی تھی، لیکن ڈاکٹروں کے اقدام نے اس کی یہ خواہش ہمیشہ کے لیے ادھوری کر دی۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ ہیلتھ ورکرز اپنی ناکامی چھپانے کے لیے خاتون کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال میں بھٹکاتے رہے، اور آخر کار تواڈو ہیلتھ سینٹر میں اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر اسقاط حمل کے ساتھ نس بندی کرنا نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عورت کے تولیدی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button