معاشرہ سازی کی معمار اول
ڈاکٹر روبینہ-اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ تعلیم و تربیت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدرآباد۔
معاشرہ سازی کی معمارِ اول
عصرِ حاضر میں ہمیں ایک مستحکم معاشرہ درکار ہے، اور مستحکم معاشرہ ایک خاندان سے شروع ہوتا ہے۔ ایک مستحکم خاندان کے لیے مرد کا کردار جتنا اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ عورت کا کردار ہے۔ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے عورت کا صحت مند ہونا ضروری ہے کیونکہ صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے۔ نسلوں کی نشوونما اور پرورش عورتوں ہی کی گود میں ہوتی ہے، لہٰذا اصلاحِ معاشرہ و معاشرہ سازی میں خواتین پر بہت اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
عورت جتنی اعلیٰ صفات، تربیت اور تعلیم کی حامل ہوگی، آنے والی نسلیں بھی انہی خوبیوں کی حامل ہوں گی۔ لہٰذا خواتین میں تقویٰ، پرہیزگاری، دینداری، فصاحت، موثر اندازِ بیان، دانشمندی، حکمت، حسنِ تربیت جیسی اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔ انہی اوصاف کی حامل خواتین ہی معاشرہ سازی اور تربیت کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا سکتی ہیں۔
علامہ اقبال اور عورت کا کردار
بقول حضرت علامہ محمد اقبالؒ:
"وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں”
علامہ اقبال نے اپنے ایک مقالے میں تحریر کیا:
"عورت تمدن کی جڑ ہے، لہٰذا اس کی طرف پوری توجہ ضروری ہے۔ اپنی قوم کی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں، مرد کی تعلیم صرف ایک فردِ واحد کی تعلیم ہے، مگر عورت کو تعلیم دینا حقیقت میں تمام خاندان کو تعلیم دینا ہے۔ دنیا میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اگر اس قوم کا آدھا حصہ جاہل رہ جائے۔”
تعلیمِ نسواں اور اسلامی نقطۂ نظر
اسلام نے بلا امتیاز مرد و عورت دونوں کے لیے تحصیلِ علم کو ضروری قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح فرمایا گیا:
"مردوں اور عورتوں میں سے جس نے بھی حالتِ ایمان میں اعمالِ صالحہ سرانجام دیے، تو ہم انہیں پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کے عمل سے بھی بہت بدلہ دیں گے۔” (سورة النحل، آیت ۹۷)
اسی طرح، سورة آلِ عمران آیت ۱۹۵ اور سورة البقرہ آیت ۳۳۸ میں بھی عورتوں کے حقوق کو مردوں کے حقوق کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات
نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر عورتوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیا۔ ایک حدیث میں فرمایا:
"جس کی تین لڑکیاں ہوں اور اس نے ان کی بہترین انداز میں پرورش کی، ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھا، اور ان کی شادی کرائی، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے۔” (ابو داود)
تعلیم یافتہ عورت: معاشرے کی ترقی کا ضامن
ایک تعلیم یافتہ خاتون ہی امورِ خانہ داری اور فرائضِ زندگی کو عمدہ طور پر نبھاتی ہے۔ آج کے بگڑے معاشرے میں لڑکیوں کو مکمل اور اعلیٰ تعلیم دینی چاہیے۔ ادھوری تعلیم بے سود ہے، نہ صرف لڑکیوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے۔
عہدِ حاضر کے شاعر شوکت محمود شوکت کے بقول:
"مرد و زن کے واسطے، تعلیم ہے یکساں جناب علم سے ہوتا ہے سب کا پختہ تر ایماں جناب علم کا نعم البدل ممکن نہیں، ممکن نہیں زندگانی ہو یقیناً علم سے آساں جناب”
تعلیمِ نسواں قرآن و حدیث کا حکم ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق شعور بیدار کریں اور انہیں دینی و دنیاوی تعلیم کے میدان میں آگے لائیں تاکہ نسلوں کی بربادی سے محفوظ رہا جا سکے اور معاشرے کی اصلاح و ترقی ممکن ہو۔ عورت کیونکہ پہلا مدرسہ ہے، تو اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا چاہیے۔



