
از : اُمّ رائد , بیڑ
سماج افراد سے بنتا ہے اور فرد ہمیشہ اصلاح طلب رہتا ہے۔ افراد کا تشکیل پزیر سماج بھی بالکل افراد ہی کی طرح ہمیشہ اصلاح چاہتا ہے اور خصوصاً ہمارا موجودہ سماج ۔ آج کے سماج میں اعلی اقدار زوال پزیر ہے ۔ اچھائیوں کا تناسب روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے اور برائیوں کا تناسب بڑھ رہا ہے لہذا اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت آج کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے ۔
سماج کی بنیادی اکائی گھر اور خاندان ہے ۔ گھروں کا ماحول پاکیزہ اور اعلی اقدار کا حامل ہو تو گویا سماج کی ہر اکائی بذات خود بہتر سُتھری اور پاکیزہ ہوگی’ اور اس طرح ایک مثالی سماج وجود میں آینگا۔ سماج سُدھار میں خواتین کے کردار پر غور کرتے ہوئے یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ خواتین مجموعی سماج میں تعداد کے لحاظ سے مردوں کے تقریباً مساوی ہوتی ہیں۔
لہذا اول تو اگر ہر خاتون اپنی ذات کی اصلاح پر توجہ دے تو پھر عورتیں سماج کی سُدھار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ سماج کی بنیادی اکانی گھر، جو کہ خواتین کے دائرہ کار کا محور و مرکز ہوا کرتا ہے اسلئے سماج کے بگاڑ کی اصلاح کے لیے گھر کو مستحکم کرنا نہایت بنیادی بات ہے اور خانگی زندگی کا دار و مدار عورت پر ہوتا ہے۔
اسلام نے عورتوں کو خانگی اور سماجی ہر دو سطح پر انسانی عظمت و احترام سے سرفراز کیا ۔ دراصل کسی سماج میں عورت کو جو مقام عطا کیا جائے وہ اس لیے بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک تو اُس مقام کی بہ دولت خود عورت کی ذات شخصیت اور سماج میں اس کے کردار کا تعین ہوتا ہے۔
دوسرے لازمی طور پر خود پورا سماج بھی متاثر ہوتا ہے۔ اور اگر عورت کو اسکا مقام و مرتبہ نہ دیا جائے تو نا صرف سماج اس کی قابلیت و صلاحیت سے استفادہ کرنے سے محروم رہتا ہے بلکہ عورتیں اپنے مخصوص دائرہ کار یعنی گھر میں بھی خاطرخواہ اور بھر پور کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ سماج میں جو بگاڑ ہے اسے دور کرنے کے لئے اور سماج کو محفوظ کرنے کے لئے عورتوں کا کردار مردوں کے کردار کے مقابلے میں بہت اہم ہے۔
کیونکہ عورت ماں ہے اور ماں کی گود میں ہر سماج کی نئ نسل پیدا ہوتی ہے اور اس کے ہاتھوں پروان چڑھتی ہے ۔ ماں اپنی تربیت سے نسل نو کو کردار و عمل کا ایسا نمونہ بنا سکتی ہے جو انسانیت کے لئے باعث فخر ہو ُ نئی نسل کی ذات و شخصیت میں اعلی اقدار اور اوصافِ حمیدہ کا رَچاؤ ماں ہی کرتی ہے۔؎
غیر محسوس طور پر اپنے نظریات ‘ اپنے طرز فکر اور اپنی شخصی خوبیوں کو اپنی گود میں پلنے والی نئی نسل کو منتقل کرتی ہے ۔ ماں کی گود انسان کی اولین درس گاہ ہوتی ہے۔ یہ درس گاہ جتنے بلند معیار کی’ جذبہ ایمانی کے ساتھ ہوگی تو سماج بھی اسی معیار کا ہوگا ۔
حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے جب صحابہ کرام کے سامنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائ کہ "اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ” تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے آپ کو تو جہنم کی آگ سے بچا سکتے ہیں۔
لیکن اپنے اہل و عیال کو جہنم سے کیونکر بچا سکتے ہیں تو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ” تم انہیں ایسے کام کرنے کا حکم دیتے رہو جن سے اللہ تعالٰی راضی ہوتا ہے اور ان کاموں سے روکے رہو جن سے اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے ۔ سماج سے بگاڑ کو ختم کرنے کے لئے اچھائ کا پھیلاؤ اور گناہوں سے روکنے کا فریضہ جو تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں ہو وہ اہل ایمان عورتوں کے کردار کی اساس ہے۔
حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر شخص را عی ہے اور اس سے اسکی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا اور ماں باپ سے انکی اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ ہم مسلمان خواتین پر ان احادیث کی روشنی میں فرض عاید ہوتا ہے کہ جو اولاد اللہ تعالٰی نے ہمیں اپنے لطف وکرم سے عنایت کی ہے۔
اُسکی تربیت و پرورش پوری ہوش مندی سے کریں کیونکہ یہ ایک ایسا اہم فریضہ ہے جس سے پورا سماج بنتا ہے. لہذاحکیم و بصیر اللہ اور اس کے رسول صلعم نے تربیتِ اولاد ‘ شخصیت سازی اور اصلاح معاشرہ کا جو اہم اور بنیادی فریضہ مسلمان عورتوں کو تفویض کیا ہے اسکے لیے ان سے یوم حشر سوال کیا جائے گا۔
آج جب ہم اپنے سماج میں مسلمانوں کو اخلاقی گراوٹ ‘ اعلی اقدار کی کمی ‘عملیت کا فقدان اور کردار سے عاری دیکھتے ہیں تو یہ صورت احوال دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ آیا آج کی مسلمان مائیں یا تو اخلاصِ عمل سے’ جذبہ ایمانی کے لحاظ سے اس معیار اور اس درجے کی مسلمان خواتین نہیں رہی یا پھر اپنے فرائض سے کوتاہی کی مرتکب ہورہی ہیں۔
قرآن مجید فرقان حمید میں الله تعالیٰ ارشاد فرماتے ہے کہ "مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔
سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ۔
یعنی یہ کہ گھر کے اندر کا ماحول ‘ محرم نا محرم کا پاس و لحاظ ‘ مخلوط سوسائیٹی جس سے سماج میں بگاڑ پید ا ہو رہا ہے . سماج غیر محفوظ ہو رہا ہے عورتیں محفوظ نہیں ہیں انکے لئے ضروری ہے کہ گھروں میں رہے کر بھی احکام الہٰی کی پابندی کرے ۔
اسی طرح عورتوں کو گھروں سے باہر جاتے وقت قرآن میں جو نصیحت کی گئ کہ ” اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ ( باہر نکلتے وقت ) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں ، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں ( کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں ) پھر انہیں ( آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے ) ایذاء نہ دی جائے …..
کتنی پیاری بات ‘ گھر میں بہی ہے تو محفوظ اور گھر سے باہر ضروری کام سے جانا ہو تو بھی پوری حفاظت کے ساتھ . آوارہ قسم کے شیطان نما انسانوں کو لعن طعن کرنے کے کا. شرارت کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں۔
عورت کی نام نہاد آزادی کے رحجان کی بہ دولت مغربی تہذیب نے عورتوں کو بے حیائ ‘ فحاشی و عریانیت کے دلدل میں پھنسا دیا ہے . بے حیائی چا رسو پھیل گئ ہے۔ کو ئی جگہ خالی نہیں سوشل میڈیا ‘ پرنٹ میڈیا ‘ الکڑانک میڈیا ‘ ڈار مے’ ناول’ تہذیب سے گرے ہوئے اشتہارات’ ٹی وی سیریلس میں رشتوں کی پامالی یہ چیزیں ہیں جو سماج کے تحفظ کو کھا رہی ہے۔
بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ نیم عریاں لباس پہنے عورتیں بازاروں کی ‘ مارکیٹ کی ‘ مال کی زینت بنی ہوئ بے . کیسے بےحیائی کا مظاہرہ کرتی ہیں ‘وقت کے شیطانوں نے عورت سے حجاب , خِمار اور جِلباب کو اتار کر اس کے تقدس کو پامال کیا.
بقول شاعر
سر سے آنچل کو اتارا چھین لی شرم وحیا
بنت حوا کو گلی کوچے میں عریا ں کر دیا
منشاء کیا ہے یہ بے حیائی کا یہی کہ لوگ انکے عریاں جسموں کو ستائش بھری نظروں سے دیکھیں؟۔ اگر کوئی اونج نیچ ہو جائے تو سارے سماج میں فساد رونما ہو جائے ,
قرآن حکیم نے مومن عورتوں کے اوصاف کو بیان کر دیا۔ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو حیا کی تلقین کی’ عورتوں کو اپنی زینت کی نمائیش سے روکا . غور فرمائیے تعلیمات اسلامی کا اصل مقصد سماج کو فحاشی عریانیت اور بے حیائ سے پاک کرنا ہے اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے پاکیزہ زندگی و اخروی نجات ۔ اگر عورت ہی اپنے آپ کو محفوظ کرلیں تو یہ شیاطین اپنے مقصد میں ناکام اور سماج خود بخود محفوظ ہوجاے گا۔
اسی طرح ایک اور مرض جو ہمارے سماج کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھوکلا کر رہا ہے وہ یہ کہ راتوں رات دولت مند بن جانے کا جنون بھی عام ہو چلا ہے حلال کمائی کی اہمیت کو پس پشت ڈال کر دولت کی ہوس نے سماج میں بے شمار خرابیوں کو جنم دیا ہے. اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کے مطابق سادگی سے اپنی زندگی بسر کرنے کو اپنا شعار بنالیں۔
غیر ضروری فرمائشیں اور ہر آسائش کی خواہش سے اپنے آپ کو باز رکھیں تو ان کے گھرانے کے مرد ناجا ئز حصولِ دولت(corruption) پر مجبور نہیں ہوں گے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی کر کے عورتیں رشوت کی لعنت کو سماج سے ختم کرنے میں مدد گا ر ہو سکتی ہے۔
آج نوجوان نسلیں جنسی بے راہ روی’ شراب’ جوا ‘ منشیات’ انٹرنیٹ کے عادی ہوچکے ہیں ان تمام برائیوں کے برے انجام سے راست یا بالراست دوچار عورت ہی ہوتی ہے. ان تمام (برائیوں سے) خطرات سے اگر عورتیں خود کو محفوظ و مامون رکھے اور صنف مخالف کی اصلاح و تربیت کا اہم فریضہ انجام دیں تب ہی ممکن ہے کہ ہمارا سماج برائیوں سے پاک ہو۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ آج کی عورتوں کو مومن عورت کا نور بصیرت اور طرز محبت عطا کردے تاکہ وہ با عزت ‘ با وقار اور با مقصد زندگی بسر کرے اور ہمارا سماج خالصتاً مادی سماج کے بجائے ایسا سماج بنے جس کا مقصد دین اور دنیا کی فلاح ہو۔ آمین



