بین الاقوامی خبریں

خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں ان کی مرضی : ترجمان طالبان سہیل شاہین

دوحہ 25اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان #سہیل #شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔بدھ کو ایک انٹرویو میں #طالبان پر #پاکستان کے اثر و رسوخ اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے سوال پر سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ ماضی کا جھوٹا الزام ہے جس کو ہم نے گذشتہ 20 سالوں میں بار بار مسترد کیا ہے،ہم اپنے فیصلے اپنے قومی مفادات اور اقدار کی روشنی میں کرتے ہیں‘۔

#طالبان کا افغانستان کے صوبوں پر تیزی سے قبضے کے بعد افغانوں کی جانب سے مظاہروں میں پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگایا گیا تھا اور پاکستان پر پابندیوں کا ہیش ٹیگ بھی چلایا گیا۔ صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح اور ان کی کابینہ کی جانب سے پاکستان پر وقتاً فوقتاً طالبان کی مدد کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جن کو پاکستان مسترد کرتا رہا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی اور ان کے رہنماؤں کی پاکستان حوالگی سے متعلق سوال پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی افغانستان سے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔افغانستان سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی پر ہماری پالیسی واضح ہے۔

اگر کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہوگا۔کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان نے مرکزی بینک سمیت اہم وزارتیں اپنے کمانڈروں کو دے دی ہیں۔ اس سوال پر کیا طالبان کے علاوہ افغان سیاستدانوں کو بھی اہم عہدے دیے جائیں گے تو سہیل شاہین نے بتایا کہ ’حکومت میں شمولیت کے لیے اسلامی امارت کے رہنماؤں کے ساتھ دیگر افغان بھی ہوں گے۔

اس سوال پر افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’نئی حکومت تمام افغان نمائندوں پر مشتمل ہوگی تاہم ہو سکتا ہے کہ نئی حکومت طالبان کے سابق دور حکومت کی طرح ہو جس میں سربراہ رئیس الوزرا ہوں گے۔’ہم ایک اور آئین بنائیں گے۔ کابل حکومت کا جو پہلے کا آئین تھا وہ قبضے کے اندر بنایا گیا تھا۔ ابھی ضرورت ایک ایسے آئین کی ہے جو آزاد افغانستان میں بن جائے اور وہ افغان عوام کے مفاد میں ہو۔ مرد و #خواتین سب کے حقوق اس میں درج ہوں گے۔

طالبان کے گذشتہ دور حکومت میں خواتین پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور وہ پردے کی بھی سخت پابند تھی جس کی وجہ سے اب بھی خواتین اس تذبذب کی شکار ہیں کہ طالبان کی حکومت میں خواتین گھر سے کس قسم کے پردے کے ساتھ نکلیں گی۔ اس حوالے سے سہیل شاہین کا کہنا ہے ’ان کی حکومت میں خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی‘لیکن پردہ اور شرعی امور پر سخت پابندی کرنی ہوگی۔کابل میں میڈیا کے اداروں میں جو خواتین کام کر رہی ہیں تو اس میں وہ اسکارف اوڑھتی  ہیں تو یہ منحصر کرتا ہے ان پر کہ وہ اسکارف لیتی ہیں یا کوئی ایسی ہوں جو خود نقاب لیتی ہوں اور ان کی نوکری ایسی ہو،طلوع نیوز اور دیگر نیوز کی خواتین ایک عملی مثال ہے۔‘

متعلقہ خبریں

Back to top button