"کام کا تنازع، توہینِ مذہب نہیں”: بنگلہ دیش میں ہندو نوجوان کے قتل میں نیا انکشاف
خاندان کا دعویٰ—قتل کی وجہ توہینِ مذہب نہیں بلکہ فیکٹری کا اندرونی تنازع تھا۔
ڈھاکہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بنگلہ دیش کے ہندو نوجوان دیپو چندر داس کے لرزہ خیز قتل کے معاملے میں ایک نیا اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ مقتول کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ دیپو کو کسی توہینِ مذہب کے الزام پر نہیں بلکہ فیکٹری میں کام کے دوران پیدا ہونے والے تنازع اور پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے بے دردی سے قتل کیا گیا۔
27 سالہ دیپو چندر داس ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازم تھا، جہاں اسے مبینہ طور پر پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پھر سڑک پر گھسیٹ کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
مقتول کے بھائی اپو روی داس کے مطابق، دیپو Pioneer Knitwears (BD) Limited میں کام کرتا تھا اور حال ہی میں سپروائزر کے عہدے کے لیے امتحان دیا تھا۔ اسی بات پر اس کے کچھ ساتھیوں سے تنازع چل رہا تھا۔ واقعے والے دن فیکٹری کے اندر جھگڑا ہوا، جس کے بعد اسے زبردستی نوکری چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔
اپو داس کا کہنا ہے کہ نوکری سے نکالنے کے فوراً بعد دیپو پر مذہب کی توہین کا جھوٹا الزام لگا دیا گیا، حالانکہ اس نے معافی بھی مانگ لی تھی، مگر مشتعل ہجوم نے اسے بخشا نہیں۔
مقامی وارڈ ممبر توفاضل حسین نے واضح کیا کہ یہ واقعہ کسی اچانک مذہبی غصے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، دیپو کے فیکٹری انتظامیہ اور چند ملازمین سے کام اور اوور ٹائم کے معاملے پر ان بن چل رہی تھی۔
بنگلہ دیش پولیس اور Rapid Action Battalion (RAB) نے بھی ابتدائی تحقیقات میں توہینِ مذہب کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، دیپو کے خلاف کسی بھی سوشل میڈیا پوسٹ یا بیان کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
پولیس کے مطابق اب تک اس ہولناک قتل کے سلسلے میں 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مقتول کے بھائی نے 140 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔



