سرورقگوشہ خواتین و اطفال

گھر اور دفتر میں توازن قائم کرتی خواتین: نیند ایک خواب بن گئی!

خواتین میں نیند کی کمی: ایک بڑھتا ہوا مسئلہ

"جب گھر اور دفتر کی دوہری ذمہ داریاں نیند کو چھین لیں تو خواتین کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔”

نیند کی تلاش میں بھٹکتی خواتین

دہلی کی رہائشی بے نظیر حنا کہتی ہیں:

"جب میں حاملہ تھی، تو مجھے گھر کا کام، شوہر کی ضروریات اور اپنی نوکری سب سنبھالنی پڑتی تھی۔ تب سے اب تک نیند مجھ سے روٹھ چکی ہے۔”

بے نظیر جیسی خواتین لاکھوں میں ہیں جو دن بھر کے تھکن بھرے معمولات کے بعد بھی رات کو سکون سے سو نہیں پاتیں۔ حالیہ عالمی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ نیند کی کمی اب صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک سنجیدہ صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔

عالمی سروے میں ہوشربا انکشافات

ورلڈ ہیلتھ ٹیکنالوجی کمپنی ریس میڈ کے ایک سروے کے مطابق:

  • 29٪ لوگ ہفتے میں کم از کم تین راتیں اچھی نیند نہیں لیتے۔

  • 34٪ افراد مستقل بے خوابی کا شکار ہیں۔

  • نیند کے مسائل کی وجوہات میں تناؤ (57٪)، اضطراب (46٪)، اور مالی پریشانی (31٪) شامل ہیں۔

  • بھارت میں سب سے زیادہ یعنی 69٪ افراد نیند کی کمی کا شکار ہیں۔

خواتین: زیادہ متاثر، کم نیند

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ:

  • مرد ہفتے میں اوسطاً 4.13 دن اچھی نیند لیتے ہیں۔

  • خواتین صرف 3.83 دن سکون سے سو پاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، خواتین روزانہ کی بنیاد پر کئی اقسام کے کام کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے دماغ کو مردوں کی نسبت زیادہ آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

حیض، حمل اور مینوپاز: نیند پر ہارمونی اثرات

ڈاکٹر سریتا شیام سندر کے مطابق:

  • حیض کے دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی کمی نیند کو متاثر کرتی ہے۔

  • حمل اور مینوپاز کے دوران بھی ہارمونل تبدیلیاں خواتین کی نیند کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔

  • 51٪ خواتین مینوپاز کے دوران نیند کی خرابی کا شکار ہوتی ہیں۔

نیند کی طلاق: رشتوں میں نئی حقیقت

‘نیند کی طلاق’ یعنی Sleep Divorce ایک نیا رجحان بن چکا ہے، جہاں:

  • بھارت میں 78٪ لوگ کبھی کبھار شریک حیات سے الگ سوتے ہیں۔

  • 18٪ جوڑے ہر رات الگ سوتے ہیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔

یہ رجحان اب امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

کام کی جگہ اور نیند کا رشتہ

امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کے مطابق:

"روزانہ چھ گھنٹے یا اس سے کم نیند لینے والے افراد کا دماغ ایسے کام کرتا ہے جیسے وہ بالکل نہ سوئے ہوں۔”

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے انکشاف کیا کہ:

"نیند کی کمی کی وجہ سے مجھے مائیگرین جیسے مسائل کا سامنا ہے، اور کبھی کبھی بیمار ہونے پر بھی چھٹی لینا مشکل ہوتا ہے۔”

نتیجہ: نیند صرف ضرورت نہیں، حق ہے

کام، گھر، بچوں اور سماجی دباؤ کے بیچ خواتین کی نیند کہیں کھو گئی ہے۔ نیند کا تحفظ صرف ذاتی صحت نہیں بلکہ معاشرتی بقا کا مسئلہ ہے۔ خواتین کی صحت اور نیند پر توجہ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button