دلچسپ خبریںسرورق

حیرت انگیز تھائی لینڈ کی عجیب وغریب لڑکی, ✍️حمیر یوسف

پوسٹ سے منسلک جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں وہ کوئی فیک تصویر نہیں اور نہ ہی کسی اسپیشل ایفیکٹ کے زریعے کسی انسان کو ایسا بالوں بھرا دیکھایا گیا ہے۔ بلکہ ایک حقیقی لڑکی کی یہ تصویر ہے جسکا سارا جسم ایک بیماری کی وجہ سے ایسا ہوگیا ہے۔تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی سپراترا ساسوفن Supatra Sasuphan کو دنیا کی سب سے زیادہ بالوں والی لڑکی قرار دیا گیا ہے۔

یہ تھائی لڑکی، سپراترا ساسوفن، جسے اکثر بھیڑیا لڑکی اور بندر کے چہرے کے طور پر چھیڑا جاتا تھا، کو دنیا کی سب سے زیادہ بال رکھنے والی لڑکی قرار دیا گیا ہے۔یہ لڑکی اب 22 سال کی ہوگئی ہے اور حالیہ میں اسکی شادی بھی ہوگئی ہے۔ کسی حد تک اس نے اپنے بالوں سے منہ پر شیو کرکے چھٹکارا حاصل کرلیا۔ لیکن یہ ایک وقتی اثر کی بات ہوتی ہے۔

لیکن اب بھی ایک دن ٹھیک ہونے اور مکمل صحت یاب ہونے کی امید رکھتی ہے۔ یہ بدقسمت اور معصوم لڑکی ایک انتہائی نایاب جینیاتی بیماری ایمبروز سنڈروم ambras syndrome میں مبتلا ہے جو ایک جلدی بیماری ہوتی ہے۔اس بیماری میں ہاتھ کی ہتھیلی، پیروں کے تلوے اور ناک،کان اور گلے کی اندرونی جھلیوں (جہاں بلغم وغیرہ بنتا ہے) کے علاوہ ہر جگہ کثرت سے بالوں کی کثرت سے گروتھ ہوتی ہے۔ میڈیکلی طور پر اس بیماری کا نام hypertrichosis lanuginosa congenital ہے، جو کہ کسی انسان کے جینیاتی مسائل کی وجہ سے لاحق ہوسکتی ہے۔

اس بیماری سے ملتی جلتی ایک اور بیماری بھی ہے جسکو ھائیپر ٹرائی کوسس hypertrichosisسنڈروم بھی کہا جاتا ہے، جس میں چہرے پر کافی زیادہ بال نمودار ہوجاتے ہیں، بنسبت بقیہ جسم کے۔ جبکہ ایمبروز سنڈروم میں پورے جسم پر بے تحاشہ بال اگ جاتے ہیں۔ یہ سنڈروم اتنا نایاب ہے کہ اب تک پوری دنیا میں اسکے صرف 50 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایسے مریضوں کا ٹھیک ہونا ناممکن ہی ہوتا ہے۔ لیکن کیا پتہ کہ کرسپر ٹیکنالوجی کی وجہ سے مستقبل میں ہم ایسی جینیاتی ڈیفیکٹ بھی دور کرنے کے قابل ہوجائیں۔

امیبروز سنڈروم یا پھر ھائیپر ٹرائی کوسس سنڈروم ہمارے ارتقائی سفر کے بارے میں بتاتی ہے اور انسانی ارتقاء ہونے کا ایک بھرپور ثبوت مہیا کرتی ہے۔ایک ایسا مظہر جس میں کسی جانداروں میں ایک ایسا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے جس میں کسی جاندار کے جسم یا اسکی شکل یا ساخت میں اسکے دور پرے کے قدیم اجداد کی خصوصیات کا لوٹ آنا ہوتا ہے۔ یعنی وہ خصوصیات کا کسی نئے جاندار میں واپس آجاتا جو وہ اپنی ارتقائی عمل کی بدولت کھودیتا ہے۔ ارتقائی سائنس میں یہ پراسس ایٹاوزم Atavism کہلاتا ہے۔ اس پر میں نے ایک پوسٹ بھی کی تھی، جس میں ایٹاوزم کے بارے میں معلومات مہیا کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button