
ساگر رانا قتل کیس: ایک اور ملزم وجندر گرفتار ، سشیل کمار سمیت 9 افراد سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی پولیس نے چھترسال اسٹیڈیم میں پہلوان 23 سالہ ساگر رانا کے قتل کے الزام میں آج اولمپک میڈلسٹ پہلوان سشیل کمار کے ایک مفرور ساتھی کو گرفتار کرلیاہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت وجندر عرف بندر کے نام سے ہوئی ہے ، جوخود بھی ایک پہلوان ہے۔
ابھی تک اس قتل کیس میں سشیل کمار سمیت 9 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ آج اس معاملے میں یہ دوسری گرفتاری ہے۔ اس سے قبل جمعہ کی صبح دہلی پولیس بھی ایک ملزم روہت کاکور کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کے وقت کاکور چھتراسال اسٹیڈیم میں موجود تھا۔
اس سے قبل پولیس نے سشیل کمار کے ساتھی روہت کاکور اور ویریندر بندر کیخلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا۔پہلوان سوشیل کمار سمیت مجموعی طور پر نو افراد کو 23 سالہ ساگر رانا کے قتل میں اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ نو ملزمان میں سشیل کمار ، اجے بکر والا ، پرنس، بھوپندر ، موہت ، گلاب ، منجیت ، روہت کرور اور وجندر عرف بندر شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بھوپندر ، موہت، گلاب اور منجیت کالا اسود اور نیرج بونا گینگ کے سرگرم رکن ہیں۔
واقعہ کے کلیدی ملزم 38 سالہ پہلوان سشیل کمار اور اس کے ساتھی اجے بکر والا کو 23 مئی کو دہلی کے منڈکا علاقہ سے دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعدسشیل کو دہلی کی عدالت نے چھ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔
اہم بات یہ ہے کہ 4 مئی کو فلیٹ خالی کروانے پر پہلوانوں کے دو گروپوں کے مابین لڑائی ہوئی تھی ، جس کے بعد پہلوان ساگر رانا مارا گیا تھا۔ اولمپک چمپئن سشیل کمار (38) اس کیس کا مرکزی ملزم ہے ، جو اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔



