مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب کسی مقررہ مدد کیلئے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو ، تو اسے لکھ لیا کرو۔ فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اسے لکھنے سے انکار نہ کرناچاہئے۔
وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے (یعنی قرض لینے والا ) اور اسے اللہ، اپنے رب سے ڈرنا چاہئے کہ جو معاملہ طئے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والے خود نادان یا ضعیف ہو، یا املانہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کیساتھ املا کرائے۔
پھر اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تا کہ ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہئے ، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔
گواہوں کو جب گواہ بننے کیلئے کہا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعین کیساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی پر انصاف ہے اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، اور تمہارے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔
ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو ، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملہ طئے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے۔ ایسا کرو گے تو گناہ کا ارتکاب کروگے۔
اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔سورہ البقرہ آیت
مکمل طریقہ زندگی:اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آتی ہے کہ مکمل طور پر سلامتی کا راستہ اگر کسی طریقہ میں ہوسکتا ہے تو وہ ہے صرف اور صرف دین اسلام کی راہ اختیار کرنا، اس کے بغیر انسانیت کی خیر و فلاح کامیابی کامرانی کا تصور تک ناممکن ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی نفسیات سے اچھی طرح باخبر ہے اس طرح سارے انسانوں کی نفسیات کا علم اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح ہے یہاں تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سینوں میں چھپے ہوئے رازوں تک کا کامل طور پر علم رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نظروں سے دنیا کی کوئی چیز نہ تو اوجھل ہے اور نہ ہی پوشیدہ بلکہ اللہ تعالیٰ بیک وقت سارے عالم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایسی باعظمت ذات گرامی باری تعالیٰ اپنے اس علم کامل کی بناء پر اپنی مخلوق میں اشرف المخلوق یعنی ’’انسانوں کیلئے‘‘ شب و روز کی بہترین زندگی عطا کرنے کی خاطر اپنے کلام (قرآن مجید) کے ذریعہ بہترین طریقہ تجویز کرتے ہوئے نازل فرمائے ہیں۔
صرف طریقے نازل نہیں فرمائے ہیں بلکہ اس کا اتنا فضل و کرم انسانوں پر ہوا کہ اس طریقہ پر عمل کر کے دکھانی والی ایک اعلی اور عظیم شخصیت کا انتخاب فرمایا جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے اہل ایمان یاد کرتے ہیں۔
اس طرح ہم تمام مسلمانوں پر اللہ کا یہ احسان عظیم ہوا لہٰذا اس کا شکر ادا کرنا چاہئے شکر ادا کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہمارا رب ہمیںجو احکام دے رہا ہے اسے کامل طور پر بجالائیں۔ غرضکہ مضمون کے آغاز میں جو آیت مبارکہ پیش کی گئی ہے اس کے ذریعہ سے اللہ رب العزت اپنے بندوں کیلئے معاشرتی زندگی سے متعلق کچھ حکیمانہ ہدایتیں اور نصیحتیں فرما رہے ہیں۔
ادھار کا سودا اور تحریر :پہلی بات یہ بیان کی جارہی ہے کہ اے ایمان والے میرے بندو،کسی مقررہ مدت کیلئے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو لکھ لیا کرو فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔
اس میں دو باتیں بیان کی گئیں ہیں پہلا یہ کہ اگر ادھار کے معاملات ہورہے ہوں تو اس کو لکھ لیا کرو مثلاً کوئی کسی سے کچھ رقم قرض کے طور پر کچھ دنوں کیلئے حاصل کررہا ہو یا پھر کوئی دوسری چیز ادھار خرید رہا ہوتو ایسے معاملات میں اس کی تفصیل لکھ لینا ضروری ہے اور اس دستاویز یعنی کاغذ لکھنے کے سلسلہ میں اس بات کا خیال خاص طور پر رکھا جائے کہ قرض لینے والے اور دینے والے کے درمیان انصاف کے ساتھ دستاویز کی تکمیل کی جائے۔
قابلیت اللہ کی ایک نعمت :دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہے اسے لکھنے سے انکار نہ کرناچاہئے۔ کیونکہ علم اور لکھنے پڑھنے کی قابلیت اللہ تعالیٰ کی عطا اور نعمت ہے لہذا اس سے دیگر بندگان خدا کو فائدہ پہنچانا اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا ہے اسی لئے یہاں پڑھے لکھے اہل ایمان کو تاکید کی جارہی ہے کہ اگر تم سے کوئی دستاویز لکھنے کی خواہش کرے تو تم ضرور لکھ دیا کرو۔
دستاویز کا املا کون کراے:تیسری بات یہ بیان ہوتی ہے کہ دستاویز کا املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے یعنی قرض حاصل کرنے والا اس فقرے پر غور کرنے سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ دستاویز کا املا کرانے کا حق قرض لینے والے کو اس لئے دیا گیاہے کہ قرض دینے والے کی طرف سے قرض لینے والے کا کوئی استحصال نہ ہو۔
کیونکہ قرض لینے والا مجبور ہوتا ہے۔ آج کل یہ دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ قرض لینے والے کی طرف سے ایک سادہ کاغذ پر اس کے دستخط لے کر رکھتے ہیں اس طرح کا یہ عمل قرآن کی رو سے قرض لینے والے کا حق مارنا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں املا کروانے کا حق قرض لینے و الے ولی یا سرپرست کو دیاگیا ہے۔
یعنی قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ،یا املا نہ کراسکتا ہو لیکن یہاں بھی تاکید کی جارہی ہے کہ اس کے ولی کو چاہئے کہ انصاف کے ساتھ املا کروائے۔
گواہی کرالو:پھر آگے فرمان حق تعالیٰ ہورہا ہے کہ دستاویز کی تیاری کے بعد اس پر دو آدمیوں کی گواہی کرالو۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ پھر اپنے مردوں میں دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ گواہی کی اہمیت اس لئے ہے کہ مثال کے طور پر اگر دستاویز گم ہوجائے یا پانی میں گرنے یا آگ لگ جانے کی وجہ سے ضائع ہوجائے یا پھر معاملت کے سلسلہ میں باہم کچھ تنازعہ پیدا ہوجائے تو ان صورتوں میں گواہی ایک ایسی چیز رہ جاتی ہے کہ جس کی بدولت ایک طرف تو فریقین کو قائل کروایا جاسکتا ہے تو دوسری جانب اگر مقدمہ قاضی کے پاس پہنچایا جائے تو قاضی ان گواہان کی شہادت کی بنیاد پر مقدمہ فیصل کرسکتاہے۔
اس طرح اللہ تعالیٰ گواہوں کے طریقے کو رائج فرماتے ہوئے مستحق کا تحفظ فرما رہے ہیں۔ اور گواہوں کے سلسلہ میں یہ فرمایا کہ اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ایک مرد کی جگہ دو عورتیں کیوں ہونا چاہئے آگے اس کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ اگر ایک عورت معاملت کے متعلق کچھ بھول رہی ہے تو دوسری اسے یاددلادے کہ ، یہ معاملہ ایسا نہیں ایسا ہوا ہے۔
کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ مردوں اور عورتوں کی خوبیوں و کمیوں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ عورتوں و مردوں کا لحاظ فرماتے ہوئے اپنے احکام صادر فرماتے ہیں۔
گواہ کس طرح کے ہوں:پھر آگے حکم ہورہا ہے کہ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہئیں جو تمہارے درمیان مقبول ہوں اور فریقین ان کے متعلق صرف اور صرف خیر اور حق گوئی کی امید رکھتے ہوں اور یہ ان کے پسندیدہ ہوں۔
گواہ بننے سے انکارنہ کرو :پھر یہ بھی فرمایا گیا اگر تم سے گواہ بننے کیلئے کہا جائے تو اس سے انکار نہ کرو کیونکہ ایک چیز یعنی حلال و جائز معاملت ہورہی ہے اور تم اس سے اچھا واقف بھی ہوگئے ہو تو پھر اس سلسلہ میں اگر تمہارے سے خواہش کی جائے تو گواہ بننے میں کیا رکاوٹ ہے۔
لین دین میں میعاد کا تعین:حکم باری تعالیٰ ہورہا ہے کہ معاملہ خواہ چھوٹا ہو کہ بڑا، معیاد کے تعین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہل نہ کرو۔ یعنی معاملہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا، چاہے معاملہ چھوٹا ہو کہ بڑا بہر حال وقت کی تعین کے ساتھ دستاویز تحریر کرنی چاہئے۔
اس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ہم جس سے قرض لے رہے ہیں یا کوئی سودا ادھار خرید رہے ہیں اس کی رقم واپس لوٹانے کیلئے دن تاریخ مہینہ یا سال کا تعین کرنا ضروری ہے اس سے دو فائدے ہوں گے۔
پہلا یہ کہ قرض دینے یا ادھار دینے والے کو آگے کے معاملات کو ترتیب دینے میں سہولت ہوگی اور دوسری جانب قرض یا ادھار لینے والے کو یہ فکر دامن گیر رہے گی کہ فلاں وقت تک مجھے رقم لوٹانا ہے یعنی وعدہ کی پابندی اور قرض کی ادائیگی کی فکر رہے گی۔



