بین ریاستی خبریں

رانگ نمبر سے محبت تک: 35 سالہ شخص کی 60 سالہ خاتون سے شادی، کہانی نے حیران کن موڑ لیا

“کہا جاتا ہے محبت عمر نہیں دیکھتی، بانکا کی یہ کہانی اس کی مثال بن گئی۔”

امرپور/بہار :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کہا جاتا ہے کہ محبت نہ عمر دیکھتی ہے اور نہ ہی سماجی بندشیں، اور بہار کے بانکا ضلع سے سامنے آنے والا یہ معاملہ اسی کہاوت کی چونکا دینے والی مثال بن گیا ہے۔ یہاں 35 سالہ نوجوان اور 60 سالہ خاتون کے درمیان تعلقات اس وقت منظرِ عام پر آئے جب دونوں امرپور بس اسٹینڈ پر اہلِ خانہ کے ہاتھ لگ گئے، جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔

یہ واقعہ امرپور تھانہ علاقے کا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آرا کے رہنے والے 35 سالہ نوجوان وکیل مشرا منڈل اور بانکا ضلع کی رہائشی 60 سالہ خاتون خوشبو دیوی کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے قریبی تعلقات تھے۔ اتوار کے روز جب دونوں امرپور بس اسٹینڈ پر موجود تھے تو خوشبو دیوی کے شوہر اور بیٹوں کو اس کی اطلاع ملی۔ اہلِ خانہ موقع پر پہنچ گئے اور نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کی، جس کے نتیجے میں بس اسٹینڈ پر افراتفری مچ گئی اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔

صورتحال بگڑتی دیکھ کر مقامی لوگوں نے مداخلت کی اور دونوں کو امرپور تھانے پہنچایا گیا۔ پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کے دوران خوشبو دیوی نے اپنی پوری کہانی بیان کی۔ ان کے مطابق تقریباً چار ماہ قبل ایک رانگ نمبر کال کے ذریعے وکیل منڈل سے بات شروع ہوئی، جو آہستہ آہستہ دوستی اور پھر محبت میں بدل گئی۔ دونوں کے درمیان فون پر طویل گفتگو ہونے لگی اور بعد میں ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

خاتون کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات بھاگلپور ریلوے اسٹیشن پر ہوئی، جس کے بعد وہ لدھیانہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے باہمی رضامندی سے شادی کی اور کچھ عرصے تک میاں بیوی کے طور پر ساتھ رہے۔ خوشبو دیوی نے پولیس کو بتایا کہ یہ رشتہ ان کی مرضی سے قائم ہوا ہے اور وہ وکیل منڈل کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

روزنامہ بھاسکر میں شائع رپورٹ کے مطابق خوشبو دیوی کی شادی کافی عرصہ قبل ہو چکی تھی اور ان کے تین بیٹے ہیں۔ ان میں سے دو بیٹے دہلی میں رہتے ہیں اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنا گزارہ کرتے ہیں، جبکہ خوشبو دیوی گاؤں میں اپنے چھوٹے بیٹے سنیل اور چھوٹی بہو کے ساتھ رہتی تھیں۔

سنیل نے الزام لگایا کہ ان کی ماں نے گھر سے ان کی بیوی کے تمام زیورات چرا کر اپنے عاشق کو دے دیے۔ اس کے مطابق تقریباً چھ ماہ پہلے تک گھر کا ماحول بالکل معمول کے مطابق تھا۔ سنیل کا کہنا ہے،“چھ ماہ پہلے تک سب کچھ ٹھیک تھا، ماں ہم سے آرام سے بات کرتی تھیں اور گھر میں سکون تھا۔”

سنیل نے مزید بتایا کہ پچھلے چند مہینوں میں ان کی ماں کے رویے میں اچانک تبدیلی آ گئی۔“جو ماں زیادہ تر گھر میں رہتی تھیں، وہ اچانک سارا دن باہر رہنے لگیں، گھنٹوں فون پر باتیں کرتیں اور جب میں کچھ پوچھتا تو ڈانٹ دیتیں اور کہتیں کہ اپنے کام سے کام رکھو۔”

سنیل کے مطابق چند روز قبل خوشبو دیوی اچانک لاپتہ ہو گئیں۔ اہلِ خانہ نے انہیں ہر ممکن جگہ تلاش کیا اور رشتہ داروں کے گھروں پر بھی فون کیے، مگر کوئی سراغ نہیں ملا، جس سے پورا خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔

اتوار کے روز سنیل کو اطلاع ملی کہ ان کی ماں امرپور بس اسٹینڈ کے قریب ایک نوجوان کے ساتھ موجود ہیں۔ جب وہ وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ خوشبو دیوی وکیل مشرا منڈل کے ساتھ دوبارہ فرار ہونے کی تیاری کر رہی تھیں۔ دونوں بس کے ذریعے پہلے بھاگلپور اور پھر لدھیانہ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ سنیل کے روکنے پر موقع پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔

عوامی غصے اور ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر مقامی لوگوں نے فوری مداخلت کی اور معاملہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ خوشبو دیوی کے شوہر اور بیٹے اس رشتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار بتائے جا رہے ہیں۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر پنکج کمار جھا کے مطابق، جوڑے کو حفاظتی نقطۂ نظر سے پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور دونوں فریقوں کے بیانات کے ساتھ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی آئندہ کارروائی طے کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button