بین الاقوامی خبریںسرورق

یحییٰ سنوار اور نیتن یاہو، کیا طویل انتظار بہتر معاہدے کا ضامن ہے؟

دونوں افراد ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں

دبئی،۲۹؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات مرکزی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔کسی بھی سمجھوتے کو اس وقت دو شخصیات کے دستخط درکار ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور حماس کے سربراہ یحیی السنوار۔دونوں افراد ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں اور جانتے ہیں کہ بات چیت کے نتائج ان کی تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑیں گے۔ بالخصوص السنوار کے لیے تو یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔دونوں شخصیات کے پاس جنگ ختم کرانے کے مضبوط محرکات ہیں تاہم دونوں ہی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسے تھوڑا طول دینے سے مستفید ہوں گے۔ مزید یہ کہ جنگ کسی ایسے سمجھوتے سے بہتر ہے جو ان کے مطالبات پورے نہ کرے۔

نیتن یاہو نے حماس پر مکمل فتح پانے اور غزہ میں یرغمال تمام قیدیوں کو واپس لانے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دونوں امور موافقت نہیں رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو کو قیدیوں کے گھرانوں اور اسرائیلی شہریوں کی اکثریت کی جانب سے بڑے دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کو یقینی بنائیں خواہ حماس کا وجود برقرار رہے۔ادھر اسرائیل کے لیے فوجی امداد اور بڑی سفارتی حمایت پیش کرنے والا امریکا بھی اس نوعیت کے معاہدے کے لیے تل ابیب پر دباؤ ڈال رہا ہے۔تاہم نیتن یاہو کے زیر قیادت حکمراں اتحاد شدت پسند وزراء پر اعتماد کر رہا ہے جو دوبارہ سے غزہ پر مستقل قبضہ چاہتے ہیں۔ انھوں نے دھمکی دی ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے بڑی رعائتیں پیش کرنے کی صورت میں وہ حکومت گرا دیں گے۔ اگر حکومت گر گئی تو پھر قبل از وقت انتخابات ہوں گے جس کے سبب نیتن یاہو جن کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح 7 اکتوبر کے حملوں کے حوالے سے سیکورٹی کی ناکامی سے متعلق احتساب کی کارروائی بھی تیز کر دی جائے گی۔ حماس کے ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے جنوب میں تقریبا 1200 افراد مارے گئے تھے جب کہ 250 کے لگ بھگ قیدی بنا لیے گئے۔نیتن یاہو جنگ کے خاتمے تک مذکورہ سیکورٹی ناکامیوں کے حوالے سے تحقیقات کرانے سے انکار کر چکے ہیں۔لہٰذا جنگ جتنی طویل ہو گی اسرائیل کے لیے فتح نما کامیابی حاصل کرنے کا امکان بھی اتنا زیادہ ہو گا۔ علاوہ ازیں السنوار کی ہلاکت اور مزید قیدیوں کی رہائی، یہ سب کچھ نیتن یاہو کو اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنانے میں مدد گار ہو گا۔

البتہ جنگ کا دورانیہ طویل ہونے سے خطرات بھی بڑھ جائیں گے جیسے فوجیوں کی یومیہ ہلاکتوں میں اضافہ اور فلسطینیوں کے ساتھ وحشیانہ معاملے کے سبب اسرائیل کی عالمی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہے۔حماس کے سربراہ السنوار جنگ کا خاتمہ چاہتے اپنی شرائط کے ساتھ چاہتے ہیں۔سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیلی حملوں میں غزہ کی پٹی میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی کے شہر تباہ ہو چکے ہیں اور اس کی 90 فی صد آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔

حماس تنظیم اپنے ہزاروں جنگجوؤں اور مسلح بنیادی ڈھانچے کے اکثر حصے سے ہاتھ دھو چکی ہے۔السنوار کے پاس سودے بازی کے لیے واحد کارڈ 110 کے قریب وہ قیدی ہیں جو اس وقت غزہ میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ ان میں تقریبا ایک تہائی افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔السنوار کے مطالبات میں یہ بات شامل ہے کہ اسرائیل بعض یا تمام قیدیوں کی رہائی ہوتے ہی دوبارہ جنگ کا آغاز نہ کر دے۔ اسی طرح وہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ فلسطینی قیدیوں میں شامل نمایاں شخصیات کی رہائی السنوار کے لیے ایک مقدس قضیے کی حیثیت رکھتی ہے۔ السنوار خود اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصہ قید رہ چکے ہیں اور ان کی رہائی بھی اسیروں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button