سرورققومی خبریں

یمن میں بھارتی نرس کو سزائے موت، ایران نے مدد کی پیشکش کی

یمنی عدالت کا فیصلہ برقرار، ایران نے انسانی بنیادوں پر مدد کا عندیہ دیا

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یمن میں ایک بھارتی نرس، نمیشا پریا کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ایران نے انسانی بنیادوں پر مدد کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بھارت کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

نمیشا پریا پر قتل کا الزام

رپورٹس کے مطابق، بھارتی نرس نمیشا پریا پر یمنی شہری طلال عبدو مہدی کے قتل کا الزام ہے۔ 2020 میں یمن کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، جسے بعد میں یمن کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی برقرار رکھا۔ یہاں تک کہ یمنی صدر رشاد العلیمی نے بھی ان کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

یمن میں نمیشا پریا کی جدوجہد

نمیشا پریا ایک تربیت یافتہ بھارتی نرس ہیں جو کئی سالوں سے یمن میں کام کر رہی تھیں۔ 2014 میں جب یمن میں خانہ جنگی شروع ہوئی، تو ان کے شوہر اور کمسن بیٹا بھارت واپس چلے گئے، مگر نمیشا نے یمن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں جب ان کے شوہر اور بیٹے نے واپس یمن جانے کی کوشش کی تو انہیں ویزا نہیں مل سکا۔

طلال عبدو مہدی کے ساتھ شراکت داری اور تنازعہ

یمن میں مالی مسائل سے دوچار نمیشا نے ایک یمنی شہری طلال عبدو مہدی کے ساتھ مل کر ایک کلینک کھولا۔ کچھ عرصے بعد دونوں بھارت کے کیرالہ علاقے کی سیر کے لیے گئے، جہاں مبینہ طور پر مہدی نے نمیشا کی شادی کی تصاویر چوری کر لیں۔ بعد میں، ان تصاویر میں ترمیم کر کے اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اور نمیشا شادی شدہ ہیں۔ اس بنیاد پر مہدی نے کلینک کے مالی معاملات میں جعلسازی کی اور رقم نکالنی شروع کر دی۔

نمیشا کے خاندان کے مطابق، مہدی نے انہیں مسلسل ہراساں کرنا شروع کر دیا اور یہاں تک کہ نشہ آور اشیاء کے زیر اثر ان پر تشدد بھی کرنے لگا۔ اس نے نمیشا کا پاسپورٹ چھپا دیا تاکہ وہ بھارت نہ جا سکیں۔ جب نمیشا نے پولیس میں شکایت درج کروائی تو یمنی پولیس نے کارروائی کرنے کے بجائے انہیں ہی چھ دن کے لیے جیل بھیج دیا۔

مہدی کی موت اور قانونی کارروائی

2017 میں نمیشا نے ایک جیل وارڈن سے مدد طلب کی، جس نے مشورہ دیا کہ وہ مہدی کو بے ہوش کر کے اپنا پاسپورٹ واپس حاصل کریں۔ نمیشا نے ایسا ہی کیا، مگر چونکہ مہدی پہلے ہی نشہ آور اشیاء کا عادی تھا، اس پر دوا کا اثر نہ ہوا۔ جب نمیشا نے دوسری خوراک دی، تو مہدی زیادہ مقدار کے باعث ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد یمنی پولیس نے نمیشا کو گرفتار کر لیا اور بعد میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

ایران کی مداخلت اور انسانی ہمدردی کی اپیل

اس معاملے پر ایران نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر بھارت کی مدد کے لیے تیار ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ سفارتی کوششوں کے ذریعے نمیشا کی سزا پر نظر ثانی کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

بھارت میں اس کیس کو لے کر کئی تنظیمیں سرگرم ہیں اور حکومت سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ سفارتی سطح پر مداخلت کر کے نمیشا پریا کی سزائے موت کو معاف کرانے کی کوشش کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button