کشور کی محبت، متھن کی زندگی...یوگیتا بالی کی ان کہی کہانی
گلیمر کی دنیا سے گمنامی تک کا سفر
یوگیتا بالی: ایک چمکتا ستارہ جو وقت کے ساتھ ماند پڑ گیا
وقت کے ساتھ بہت سب کچھ بدل جاتا ہے۔ کل کا ستارہ آج اندھیرے اور دل میں کھو جاتا ہے۔ بالی ووڈ میں بھی ایسے ستاروں کی بھرمار ہے جو کبھی کامیابی کی بلندی پر کھڑے تھے تو آج بالی ووڈ کی چمک دمک اور گلیمرس زندگی سے دور ہو گئے ہیں۔
یوگتا بالی، بالی ووڈ کی وہ اداکارہ جنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی ناظرین کو اپنی خوبصورتی اور دلکشی سے متاثر کیا۔ وہ کبھی صفِ اول کی ہیروئن تو نہ بن سکیں، لیکن ان کی موجودگی اور اداکاری نے ناظرین کے دلوں میں اپنی الگ پہچان ضرور بنائی۔ وقت کے ساتھ وہ گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئیں، لیکن ان کی زندگی کی کہانی آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
ابتدائی زندگی
یوگتا بالی کی پیدائش 13 اگست 1952 کو ممبئی، مہاراشٹر کے ایک پنجابی خاندان میں ہوئی۔ وہ معروف اداکار شمّی کپور کی بیوی اور لیجنڈری اداکارہ گیتا بالی کی بھانجی ہیں۔ فلمی پس منظر رکھنے کے باوجود، یوگتا نے فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ خود بنائی۔
فلمی کیریئر کی شروعات
یوگیتا بالی نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1971 میں فلم ‘پروانہ’ سے کیا، جس میں ان کے ہمراہ امیتابھ بچن اور نوین نشچل تھے۔ یہ فلم اس لیے بھی یادگار ہے کیونکہ اس میں امیتابھ بچن نے نگیٹو کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کا ایک گانا کافی مقبول ہوا، اور یوگتا کی موجودگی کو بھی سراہا گیا۔
اسی سال یعنی 1971 میں یوگیتا بالی فلم ‘میم صاب’ میں ونود کھنہ کے ساتھ نظر آئیں۔ یہ ایک سسپنس تھرلر فلم تھی، جس میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔
آگے کا سفر اور فلمیں
یوگیتا بالی نے فلم ‘سمجھوتہ’ (1973) میں انل دھون کے ساتھ کام کیا، جبکہ ‘بنارسی بابو’ میں وہ لیجنڈ اداکار دیو آنند کی ہیروئن کے طور پر جلوہ گر ہوئیں۔ اس فلم میں دیو آنند کا ڈبل رول تھا اور دوسری ہیروئن راکھی تھیں، لیکن یوگیتا بالی اپنی معصوم اداؤں سے الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
‘ناگن’ (1976) میں جہاں کئی مشہور فنکار تھے، وہیں یوگیتا بالی بھی فنکاروں کی اس بھیڑ کا حصہ تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے ‘چرترہین’ (سنجیو کمار – شرمیلا ٹیگور) اور ‘اجنبی’ (راجیش کھنہ – زینت امان) جیسی فلموں میں چھوٹے مگر جاندار کردار نبھائے۔
‘چچا بھتیجا’ (1977) میں ان کے ہیرو رندھیر کپور تھے جبکہ ‘جنتا حولدار’ (1979) میں انہیں راجیش کھنہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، لیکن تب تک راجیش کھنہ کا ستارہ ڈوبنے لگا تھا۔
‘بیوی او بیوی’ (1981)، جو مشہور آر کے بینر تلے بنی، اس میں یوگتا نے سنجیو کمار کے ساتھ کامیڈی کی، لیکن فلم میں لیڈ ہیرو رندھیر کپور اور ہیروئن پونم ڈھللون تھیں، اس لیے یوگتا کی موجودگی کو زیادہ نوٹس نہیں کیا گیا۔
‘لیلیٰ’ (1984) میں وہ سنیل دت کی بیوی اور انیل کپور کی ماں کے کردار میں نظر آئیں۔ یہ فلم ان کے کریئر کے آخری بڑے پروجیکٹس میں سے ایک تھی۔
فلمی دنیا سے دوری
1979 میں یوگیتا بالی نے مشہور اداکار متھن چکرورتی سے شادی کر لی، جس کے بعد انہوں نے فلموں سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی۔ 1989 میں فلم ‘آخری بدلہ’ میں متھن کے ساتھ نظر آئیں، جو ان کی آخری فلم مانی جاتی ہے۔
ذاتی زندگی
یوگیتا بالی کی ذاتی زندگی بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ 1976 میں انہوں نے مشہور گلوکار اور اداکار کشور کمار سے شادی کی اور ان کی تیسری بیوی بنیں۔ تاہم، یہ شادی صرف دو سال چل سکی اور 1978 میں کشور کمار نے انہیں اپنی سالگرہ کے دن (4 اگست) طلاق دے دی۔
1979 میں، کشور سے طلاق کے ایک سال بعد، یوگتا نے اداکار متھن چکرورتی سے شادی کر لی۔ اس وقت تک متھن اپنی پہلی بیوی سے طلاق لے چکے تھے۔ یوگتا اور متھن نے طویل عرصے تک اپنی شادی کو قائم رکھا اور فلمی دنیا سے دور ایک نجی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔
اداکاری کی شناخت
یوگیتا بالی نے فلم انڈسٹری میں لیڈ رول کے بجائے زیادہ تر سپورٹنگ کردار ادا کیے۔ انہیں اکثر ایسی فلموں میں کاسٹ کیا گیا جنہیں بڑی ہیروئنز نے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنے کریئر کے آغاز میں وہ ایک سیکس سمبل کے طور پر بھی پیش کی گئیں، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے سنجیدہ اداکاری میں بھی اپنی شناخت بنائی۔
آج یوگیتا بالی فلمی دنیا اور میڈیا کی چمک دمک سے بہت دور ایک پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ ایک ایسی اداکارہ تھیں جنہوں نے کم وقت میں فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا۔ ان کا فلمی سفر اگرچہ طویل نہیں تھا، مگر ان کے کردار، ان کی خوبصورتی، اور ان کی ذاتی زندگی کے اتار چڑھاؤ آج بھی لوگوں کے ذہن میں ایک خاص جگہ رکھتے ہیں۔
یوگیتا بالی کی کہانی ان تمام فنکاروں کی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے بالی ووڈ میں اپنے خوابوں کی دنیا بنائی، کچھ حاصل کیا، کچھ کھویا، اور پھر خاموشی سے اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔
Anurag Kashyap: حقیقت پسند کہانیوں کا بادشاہ – فلمی دنیا کا انوکھا ہدایتکار


