اسرائیلی بمباری میں کم عمر ترین یرغمالی ہلاک ہوگیا: حماس
بچوں سمیت تمام یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی
غزہ،30نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ 10 ماہ کا بچہ کفیر بیباس، اس کا 4 سالہ بھائی ارییل اور ان کی والدہ شیری سلورمین اسرائیلی بمباری میں مارے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ القسام کے اعلان کی تصدیق کر رہی ہے۔حماس غزہ کی پٹی میں 9 بچوں سمیت تمام یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ تمام یرغمالیوں کی حفاظت کی ذمہ داری حماس پر ہے۔ رائٹرز ابھی تک القسام بریگیڈز کے بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان چھ روز کی جنگ بندی کے بعد مزید سیز فائر کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔العربیہ کے نمائندے کی خبر کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ زیر حراست افراد کی چھٹی کھیپ جس میں 10 اسرائیلی اور دو روسی شامل ہیں کو رہا کیا جارہا ہے۔
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے فریم ورک سے باہر روسی شہریت کے حامل کئی قیدیوں کو رہا کرے گی۔ چار روز کی جنگ بندی کے بعد اس میں دو روز کی توسیع کی گئی تھی۔ ان دو روز میں ہر روز حماس نے 10 اسرائیلیوں کو 30 فلسطینیوں کے بدلے میں رہا کرنا تھا۔ تحریک حماس اس مدت کے دوران اپنے اور مختلف دھڑوں کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کو قائم کردہ طریقہ کار اور انہی شرائط کے اندر رہا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر، مصر اور امریکہ کی طرف سے کا گیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع قریب ہے۔



