آف بریک گیند باز، فلک بوس چھکے مارنے والا
✍️ سلام بن عثمان،کرلاممبئ
کرکٹ میچ یوں تو گھریلو کرکٹ سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد پانچ دنوں کے ٹیسٹ میچ کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد یک روزہ میچ کی بنیاد پڑی، یک روزہ میچ شروعاتی دور میں 60 اوورز پر کھیلا جاتا تھا۔ مگر بعد میں 50 اوورز پر محدود ہوگیا۔ بین الاقوامی سطح پر لسٹ اے محدود اوورز میچ عمل میں آیا۔
لسٹ اے میچ میں کئی ملکوں کے بہترین بلے باز، گیند باز اور آل راؤنڈر کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ لسٹ اے میچ میں کھلاڑیوں میں بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ کو بہترین بنانے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی خاص اور اہم وجہ تمام ملک کے کھلاڑی اپنے کھیل کے شعبہ کے ذریعے ایک دوسرے پر اپنی گرفت کو مضبوط بناتے جس سے تجربہ میں بہتری ہوتی ہے۔
ان کی بہترین کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کی قومی ٹیم میں ان کھلاڑیوں کو موقع ملتا ہے۔ اس کے بعد ٹی20 میچ میچ کی بنیاد رکھی گئی۔ اور اب ٹی10 میچ کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔
کرکٹ میں ٹیسٹ میچ کے علاوہ ہر طرز میں ایک اہم بات ضرور ہوتی ہے اور وہ ہے ورلڈ کپ چاہے یک روزہ میچ ہو یا پھر ٹی20 اب شاید آنے والے دنوں میں ٹی 10 میچوں کا بھی ورلڈکپ بہت جلد عمل میں آ سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے طرز کو اپناتے ہوئے ہر ملک میں آئی پی ایل جیسے میچوں کا انعقاد ہونے لگا ہے۔
جیسے انڈین پریمیئر لیگ میچ ٹورنامنٹ انڈیا میں ہوتا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ جب گھریلو کرکٹ میں کسی کھلاڑی نے عمدہ بلے بازی یا پھر عمدہ گیند بازی کی تو اسے قومی ٹیسٹ ٹیم میں فوراً شامل کر لیا جاتا تھا۔ یک روزہ میچ کے شروعات کے بعد کھلاڑیوں کو ان کی بہترین کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں اس طرز کے میچوں میں شامل کیا جانے لگا۔
اس کی مثال بہترین آل راؤنڈر یوسف پٹھان ہے۔ ان کے آل راؤنڈر کھیل کو دیکھتے ہوئے ٹیسٹ میچ میں شامل نہیں کیا گیا انھیں یک روزہ میچ میں جگہ ملی اور پھر ٹی20 میں بھی شامل کیا گیا۔
ٹیم انڈیا کے تیز رفتار ایکسپریس بلے باز یوسف پٹھان سابق کھلاڑی عرفان پٹھان کے بڑے بھائی ہیں۔ ویسے تو پہلے چھوٹے بھائی کو ٹیم انڈیا میں جگہ ملی اس کے بعد بڑے بھائی یوسف پٹھان کو ٹیم انڈیا میں یک روزہ کے لیے منتخب کیا گیا۔
17 نومبر 1982 میں یوسف پٹھان گجرات کے بڑودہ شہر میں غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یوسف پٹھان نے 02 -2001 میں فرسٹ کلاس میچوں سے اپنے کرکٹ کا آغاز کیا۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے ساتھ بہترین آف بریک گیند بازی میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں 2007 میں دیودھر ٹرافی میں ریاستی فرسٹ کلاس کرکٹ ٹی20 کے مقابلے میں موقع ملا۔
شاندار کارکردگی کی وجہ سے انھیں ستمبر 2007 میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہونے والی افتتاحی ٹی20 ورلڈ کپ چیمپئن شپ کے لیے ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ یوسف پٹھان نے پاکستان کے خلاف فائنل میں بین الاقوامی میچ سے شروعات کی۔
اپنے پہلے میچ میں یوسف پٹھان نے 15 رنز بنائے۔ آئی پی ایل میں اچھے مظاہرہ پر ان کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ انگلینڈ میں یک روزہ میچوں کی سیریز کے لے منتخب ہوئے۔ انھوں نے اپنی 26ویں سالگرہ کے موقع پر اندور میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے صرف 29 گیندوں پر پچاس رنز بنائے۔
اس کے بعد سال 2009 میں آئی سی سی ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے 17 گیندوں پر تیز ترین 33 رنز بناتے ہوئے کرکٹ میں اپنی زبردست شناخت بنائی۔ سال 2010 میں دلیپ ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں یوسف پٹھان نے دوسری اننگز میں بہترین ڈبل سنچری بناتے ہوئے اپنی ٹیم کو تین وکٹوں سے فتح دلانے میں کامیاب ہوئے۔
یوسف پٹھان نے پہلے اننگ میں 108 اور دوسرے اننگ میں 190 گیندوں پر 210 رنز کی اہم اننگز کھیلتے ہوئے ان کی ٹیم نے 536 کا ایک بڑے حدف کا تعاقب کرنے میں مدد کی۔ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب رنز کا تعاقب کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔ یوسف پٹھان نے 7 دسمبر 2010 کو اپنی پاور ہٹنگ کے ذریعے ہندوستان کو پانچ وکٹوں کی یادگار جیت دلائی۔
یوسف پٹھان نے اپنی جارحانہ بلے بازی کے ذریعے نیوزی لینڈ کے قلعے میں ہل چل مچا دی۔انھوں نے 96 گیندوں میں 123 رنز کی شاندار اننگ کھیلی۔ اپنے ساتھی کھلاڑی کے ساتھ 133 رنز کی بہترین اشتراکی اننگ کھیلتے ہوئے ہندوستان کو 316 رنز کے بڑے ہدف تک پہنچاتے ہوئے ٹیم انڈیا کو فتح دلائی۔
اس بہترین کارکردگی پر انھیں مین آف دی میچ کے خطاب سے نوازا گیا۔ یوسف پٹھان نے آل راؤنڈر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی یک روزہ سنچری میں سات چوکے اور سات چھکے لگاتے ہوئے نیوزی لینڈ کے چیلنجنگ 315 پر 7 حاوی ہوتے ہوئے ٹیم انڈیا کو فتح دلائی۔
ایوارڈ تقسیم کے دوران انھوں نے کہا ” آج کا میرا یہ بہترین کھیل میرے کیرئیر کو فروغ دے گا” اس وقت ٹیم انڈیا کے کپتان گوتم گمبھیر نے کہا "میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پٹھان اپنے طور پر کھیل ختم کرسکتے ہیں، اور آج اس نے ایسا ہی کیا۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ جب تک یوسف پٹھان پچ پر موجود ہیں ہم ضرور جیت حاصل کریں گے.” اس وقت نیوزی لینڈ کے کپتان ڈینئیل ویٹوری نے کہا ” آج کرکٹ کا بہت اچھا کھیل تھا۔ میچ ہماری گرفت میں تھا۔ مگر یوسف پٹھان نے کافی حیرت انگیز کھیل کھیلتے ہوئے ہم سے ہماری جیت چھین لی۔”
uاس کے بعد یوسف پٹھان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایم ٹی این بین الاقوامی میچ جو پریٹوریا میں کھیلا گیا تھا اس میچ میں بہت ہی شاندار اننگ کھیلتے ہوئے 70 گیندوں میں 8 چوکے اور 8 چھکے پر مشتمل شاندار 105 رنز بنائے۔
اس میچ میں انڈیا کو شکست ملی۔ مگر یوسف پٹھان کی بہترین کارکردگی کو بہت سراہا گیا۔ انھوں نے اپنی سنچری صرف 68 گیندوں میں مکمل کی۔ یوسف پٹھان بر صغیر کے چھٹے کھلاڑی اور ہندوستان کی طرف سے دوسرے تیز ترین سنچری بنانے والے کھلاڑی میں ان کا شمار ہوا۔
اس عمدہ کارکردگی کی وجہ سے انھیں سال 2011 کے ورلڈکپ کے لیے ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ اس ورلڈ کپ میں خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے مگر فاتح کا تمغہ اور ورلڈکپ حاصل کرنے کے اعزاز میں شامل ہوئے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ 2007-08کے بعد انھیں انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل میں راجھستان رائلز نے 1.9کروڑ میں یوسف پٹھان کو سائن کیا۔ 2008 کے آئی پی ایل سیزن میں انھوں نے 435 رنز بنائے اور 8 وکٹیں بھی حاصل کی۔ انھوں نے دکن چارجزر کے خلاف کھیلتے ہوئے سیزن کی تیز ترین نصف سنچری صرف 21 گیندوں میں بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اور چنائی سپر کنگز کے خلاف کھیلتے ہوئے فائنل میں مین آف دی میچ بھی رہے۔
یوسف پٹھان نے آئی پی ایل سیزن تین کے دوران راجستھان رائلز نے انھیں نائب کپتان کے طور پر نامزد کیا۔ 13 مارچ 2010 کو یوسف پٹھان نے ممبئی انڈینز کے خلاف کھیلتے ہوئے پریمیئر لیگ کے میچ میں صرف 37 گیندوں پر سنچری میں مسلسل 11 زبردست ہٹ لگائی جس میں پانچ فلک بوس سکسر کے علاوہ چھ بہترین چوکے بھی لگائے۔
اس اسکور کے بعد آئی پی ایل میں تیز ترین سنچری بنائی، وہیں ان کے کپتان شین وارن نے آئی پی ایل کی بہترین اننگز اور یوسف پٹھان کے کیرئیر کی شاندار سنچری قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کے بہترین کھلاڑی اینڈریو سائمنڈ کے تیز ترین سنچری سے مشابہت کی۔
اس کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے سال 2011 کے آئی پی ایل میں یوسف پٹھان کو 2.1 ملین میں خریدا۔ اس کے بعد سال 2014 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 3.25 کروڑ میں انھیں برقرار رکھا۔
24 مئی 2014 میں یوسف پٹھان نے محض 15 گیندوں میں آئی پی ایل کی تاریخ کا دوسرا تیز ترین 50 رنز بنایا۔ جس کے نتیجے پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز لیگ ٹیبل میں دوسرے نمبر پر آگئی اور ساتھ ہی سیزن کا ٹائٹل بھی جیت لیا۔
یوسف پٹھان نے پہلا یک روزہ میچ 10 جون 2008 میں پاکستان کے خلاف کھیلا۔ اور آخری یک روزہ میچ 18 مارچ 2012 میں پاکستان ہی کے خلاف کھیلا۔ پہلا ٹی20 میچ 24 ستمبر 2007 میں پاکستان کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹی20 میچ 30 مارچ 2012 میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔
یوسف پٹھان نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز بڑودہ سے کیا۔ آئی پی ایل میں 10-2008 تک راجستھان رائلز، اس کے بعد 17-2011 تک کولکتہ نائٹ رائیڈرز، اس کے بعد 19-2018 سن رائز حیدرآباد۔
۵۷ ؍ یک روزہ میچوں میں 810 رنز بنائے جس میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہے۔ بہترین اسکور رہا 123 رنز ناٹ آؤٹ، گیند بازی میں 33 وکٹیں بہترین گیند بازی 49 رنز کے عوض تین وکٹیں اور 17 کیچیز۔
۲۷۴؍ ٹی20 میچوں میں 4852 رنز جس میں ایک سنچری اور 21 نصف سنچریاں، بہترین اسکور رہا 100 رنز ۔ گیند بازی میں 99 وکٹیں بہترین گیند بازی رہی ایک رنز کے عوض چار وکٹیں 86 کیچیز۔
سو فرسٹ کلاس میچوں میں 4825 رنز جس میں گیارہ سنچریاں اور 20 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین اسکور 210 رنز ناٹ آؤٹ۔ گیند بازی میں 201 وکٹیں جس میں 14 مرتبہ پانچ وکٹیں اور دو مرتبہ دس وکٹیں۔ بہترین گیند بازی رہی 40 رنز کے عوض چھ وکٹیں اور 80 کیچیز۔
۱۹۹؍ لسٹ اے میچوں میں 4797 رنز بنائے جس میں 9 سنچریاں اور 28 نصف سنچریاں کے ساتھ بہترین اسکور 148 رنز ۔ گیند بازی میں 124 وکٹیں دو مرتبہ پانچ وکٹیں اور بہترین گیند بازی 52 رنز کے عوض پانچ وکٹیں اور 83 شاندار کیچیز۔
یوسف پٹھان نے رنجی ٹرافی میں اکتوبر 2015 میں تیز ترین 50 رنز صرف 18 گیندوں میں بنایا اور ریکارڈ اپنے نام کیا۔
کرکٹ اکیڈمی آف پٹھانز کا آغاز یوسف پٹھان اور عرفان پٹھان نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس اکیڈمی میں ہندوستان کے سابق کوچ گریگ چیپل اور کیمرون ٹریڈل کے ساتھ بطور چیف مینٹرز معاہدہ کیا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر کووڈ 19 وبائی امراض کے دوران ماسک تقسیم کرکے انسانیت کا کام کیا۔
یوسف پٹھان نے ممبئی میں مقیم فزیو تھراپسٹ آفرین سے 17 اپریل 2014 میں شادی کی۔ ایک لڑکا ہے۔ یوسف پٹھان نے فروری 2021 میں ہر طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔



