بین الاقوامی خبریں

بزرگ فلسطینی عالم دین الشیخ یوسف الباز پر صہیونی وحشیوں کا وحشیانہ تشدد

مقام لد، ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قابض اسرائیلی پولیس کے نام نہادقطری اینٹی کرپشن اینڈ آرگنائزڈ کرائم یونٹ – لاھف 433 نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر لُد شہر میں واقع جامع مسجد کے امام 63 سالہ الشیخ یوسف الباز کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش شروع کی ہے۔

ان پر جمعہ کے خطبوں میں عوام کو اسرائیل کیخلاف اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ بزرگ فلسطینی عالم دین کو دوران حراست ایک بدنام زمانہ عقوبت خانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ تفتیش 19 جولائی 2021 کو عید الاضحی کے خطبہ کے دوران تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں شروع کی گئی ہے۔

الباز کالعدم اسلامی تحریک کے ایک اہم رہنما ہیں، جس کی سربراہی شیخ رائد صلاح کر رہے ہیں۔الشیخ الباز لد میں فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے اور ان کی وکالت کرنے کے لیے پہلے بھی آواز بلند کرچکے ہیں۔

الباز نے ایک پریس بیان میں کہا تھا کہ تین تفتیش کار جنہوں نے تقریباً چار گھنٹے تک اس سے پوچھ گچھ کی۔ اسرائیلی تفتیش کاروں نے الزام لگایا کہ گذشتہ سال عید الاضحی کے مبارک خطبہ کے دوران اشتعال انگیزی ،تشدد اور دہشت گردی پر اُکسایا تھا۔اس کے جواب میں الشیخ الباز نے کہاکہ ان کے دعوے کے مطابق اشتعال میرے خطبہ میں کہنے سے آیا۔

ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے ،لیکن مسجد اقصیٰ سے دستبراداری کا کوئی سوال ہی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مسلّم عقیدہ ہے کہ مسجد اقصیٰ ہماری ہے اور اس میں یہودیوں کا کوئی ذرہ بھر بھی حصہ نہیں ہے۔ الباز نے کہا کہ انہوں نے تفتیش کار کو جواب دیا کہ آپ کے الفاظ آپ کی طرف واپس آ گئے ہیں۔

جولائی 2021 کو قابض پولیس کے پبلک پراسیکیوشن نے الباز کے خلاف لُد مرکزی عدالت میں فرد جرم جمع کرائی جس میں ان پر مبینہ طور پرتشدد، دہشت گردی اور دھمکیوں پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button