بین ریاستی خبریں

آہ استاد محترم آپ کی جداٸی کا غم

آمبور

آہ استاذ محترم آپ کی جداٸی کا غم

✒️الطاف احمد آمبوری
⊙═════════════⊙
وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ہے کمی تو بس اس چاند کی چو تہہ مزار چلا گیا

آہ ! استاذ محترم عالیجناب کے عبد الرشید صاحب شہر آمبور میں جن قابل قدر شخصیات نے اپنے خون جگر دے کر چمن کی آبیاری کی ہے اور رہتی دنیا تک کے لۓ اپنی حیات مستعار کے پیش قیمت نقوش انسانی دلوں پر مرتسم کۓ ہیں ان میں ایک نمایاں نام میرے استاذ محترم کے عبد الرشید صاحب ہیڈماسٹر آنیکار اورینٹل عربک ہاٸر   اسکول آمبور کی ولادت آمبور کے قریب نریم پیٹ نامی ایک قصبہ میں ہوٸی۔

ابتداٸی تعلیم محمدیہ اسکول عمرآباد پھر مظہر العلوم ہاٸرسکینڈری اسکول آمبور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیوکالج چینٸ میں اعلی تعلیم حاصل کی پھر BT تربیت کے بعد آنیکار اورینٹل اسکول میں آپ ہیڈماسٹر فاٸز ہوئے جہاں 28 سال کی بے لوث پرخلوص مثالی تعلیمی خدمت انجام دی ۔ آپ جیسا محنتی جفاکش اور اپنے پیشے سے محبت کرنے والا استاد ہم نے نہیں دیکھا۔ بطور ہیڈماسٹر اپنی مصروفات کے باوجود کبهی بھی آپ نے درس و تدریس کو نہیں چھوڑا اور اپنی گھنٹی پر پابندی کے ساتھ دسویں جماعت کے طلبا۶ کو انگریزی اپنی منفرد انداز میں پڑھایاکرتے تھے۔

آنیکار اورینٹل جنوبی ہند کا ایک مشہور تعلیمی ادارہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے طلبا علم حاصل کرنے یہاں آتے ہیں اور استاذ محترم کی دانشمندی علمی فراست طلبا کی بہترین تربیت کا چرچا دور دور تک ہونے کی وجہ سے اسکول میں داخلہ کے لۓ لوگوں کا ہجوم لگارہتا تھا۔ آنیکار عبدالشکور رح بانی مدرسہ استاذ محترم کے فن سے بخوبی واقف تھے اور آپ نے حضرت کی رہائش کا بندوبست مدرسہ کے احاطہ میں ہی کردیا لہذا آپ حقیقی معنوں میں 24 گھنٹے مدرسہ کی خدمت کے لۓ اپنی ذات کو وقف کردیا۔

حضرت محترم نے قابل اساتذہ کی ایک ٹیم تشکیل دی اور لگاتار 18 سال تک OSLSC میں %100 طلبا کی کامیابی کو یقین بنایا جو ایک معجزہ سے کم نہیں۔ طلبا کو دۓ گۓ سونے چاندی کے تمغوں کی ایک لمبی فہرست آج بھی مدرسہ کے آفیس میں موجود ہے استاذ محترم و اساتذہ کرام کی نگرانی میں صرف آمبور ہی میں نہیں پوری ریاست بلکہ سارے ملک کے یہاں سے تعلیم یافتہ طلبا کی کردار سازی کا تاریخ ساز کام آپ کے عہد زرین میں ہوا۔

استاذ محترم کی خدمت کےاعتراف میں حکومت تامل ناڈو نے 1985 میں اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا ۔سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے 1994 میں آپ کو نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا جس کے آپ صحیح معنوں میں مستحق ہیں جو شہر آمبور کے لۓ قابل فخر ہے ۔

31 مٸ 1996 میں آپ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوۓ۔ شبکدوشی کے بعد آمبور مسلم ایجوکيشنل سوسائٹی نے آپ کی خدمات حاصل کی اور تا حیات قوم و ملت کی بےلوث خدمت ادا کرتے رہے۔ بروز ہفتہ 6 مارچ 2021 کو صبح کی اولين ساعتوں میں حرکت قلب بند ہونے سے آپ اس دارفانی سے کوچ کرگۓ۔

آہ! کیا شخص تھا جو محفل ویران گرگیا

یوں تو سب کو اس دار فانی سے جانا ہے لیکن موت اس کی جس کو زمانہ کرے یاد کے مصداق ! استاذ محترم کی رخصت ہونے سے ایک علم کی دنیا ویران ہوگٸی ، ایک چمن اجڑ گیا، کلیجہ منہ کو آتا ہے دل کی کیفیت عجیب ہے جس کا بیان شاید الفاظ و جملوں میں نہیں ہوسکتا ہے اور زبان بے اختیار کہہ رہی ہے کہ

جو بادکش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقاۓ دوام لے ساقی  (علامہ اقبال)

بارگاہ رب العزت میں انتہائی عاجزانہ دعا ہے ہے کہ اللہ تعالی استاذ محترم کو ان کی خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرماۓ۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

متعلقہ خبریں

Back to top button