
اسٹوڈنٹ یونین کی بحالی کی مانگ کولے کر 6 ماہ سے بھوک ہڑتال پر ہیں الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ
پریاگراج : (اردودنیانیوز)کبھی ملک میں سیاست کی نرسری کہے جانے والے الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین پر گذشتہ ڈیڑھ سال سے پابندی عائد ہے۔ طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کیلئے یہاں کے طلبہ مستقل احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبہ کی یونین کی بحالی کے مطالبے کے تحت طلبہ کے ذریعہ جاری بتدریج بھوک ہڑتال کے اب 6 ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ بھوک ہڑتال کے6 ماہ مکمل ہونے پر طلبہ نے نہ صرف مظاہرہ اور نعرے بازی کی، بلکہ اپنی تحریک کو مزید تیزکرنے کیلئے کل جماعتی جدوجہد کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔اس آل پارٹی کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی طلبہ یونٹ اے بی وی پی بھی شامل ہوگی۔ یہ جدوجہد کمیٹی 26 جنوری یعنی یوم جمہوریہ کے دن اپنی تحریک کا آغاز کرے گی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب یونیورسٹی میں اساتذہ کی یونین ہوتی ہے، ملازمین کی یونین ہوتی ہے تو پھر طلبہ کی یونین کیوں نہیں ہوسکتی۔
6 ماہ قبل کورونا دور میں اس کی شروعات سماج وادی اسٹوڈنٹ سبھا کے طالب علم اجے یادو سمراٹ نے کی تھی لیکن بعد میں دیگر تمام طلبہ بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان دنوں یونیورسٹی بند ہے لیکن اس کے باوجود روزانہ پچاسوں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر روزانہ کی بھوک ہڑتال میں شامل ہورہے ہیں۔ الہ آباد یونیورسٹی کو اس سے قبل ملک میں تعلیم کا ایک مرکزی محور اور مضبوط طلبہ یونین کی وجہ سے سیاست کی نرسری ہونے کی وجہ سے مشرق کا آکسفورڈ کہا جاتا تھا۔



