سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی

اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی

 رنجیت رامچندرن کے والد ٹیلر ہیں اور رنجیت کی ماں مانریگا کی مزدور ہیں۔ رنجیت کے والد کی تین اولادیں ہیں اور رنجیت ا ن میں سب سے بڑا ہے۔ ان لوگوں کا جو گھر ہے دنیا اس کو جھونپڑی کہتی ہے کیونکہ خاندان کے پانچ لوگ جس جگہ رہتے ہیں وہ کیچڑ کی دیواروں سے تعمیر کردہ ہے اور گھر کی چھت پالی تھین پلاسٹ سے ڈھکی ہے جس کے باوجود بارش کے دوران پانی رستا ہے۔ رنجیت کا تعلق درج فہرست قبائل (ST) طبقے سے ہے۔

یہ لوگ اگرچہ مراٹھی بولنے والے ہیں لیکن کیرالا کے کاسر گوڈ ضلع میں رہتے ہیں۔ گائوں میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے گھر والوں کی مدد کرنے کے لیے رنجیت نے نوکری کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے چھوٹے بھائی بہن ابھی اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ بحر حال نوکری کی تلاش میں رنجیت، علاقے کے بی ایس این ایل ایکسچینج میں بطور نائٹ واچ مین کام کرنے لگا۔

اس کام کے بدلے میں اس کو مہینے بھر کے چار ہزار مل جاتے تھے۔ واچ مین کی نوکری رات کی تھی لیکن رنجیت نے طئے کیا کہ وہ رات میں کام ضرور کرے گا لیکن دن کا وقت سوکر نہیں گذارے گا۔ یہ سونچ کر اس نے ایک ڈگری کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس طرح رنجیت دن میں کالج کی پڑھائی کرتا اور رات میں واچ مین کی ڈیوٹی۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھی رنجیت نے رات کی نوکری نہیں چھوڑی اور نہ ہی آگے کی تعلیم کو ترک کی۔ رنجیت نے اپنے ہی ضلع کی سنٹرل یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویشن کے لیے داخلہ لے لیا۔ دن میں پڑھائی کرنے کے بعد وہ گھر چلا جاتا۔ جہاں پر کھانا کھاکر وہ ٹیلی فون ایکسچینج کا رخ کرتا جہاں پر بطور نائٹ واچ مین کام کرتے ہوئے اس نے رات کے وقت میں پڑھائی کرنے کو معمول بنالیا تھا۔ بطور واچ مین اس کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ ایکسچینج کی لائٹ بند نہ ہو۔

ضلع کا سرگوڈ کے متعلق رنجیت بتلاتا ہے کہ وہاں پر تعلیم اور خاص کر اعلیٰ تعلیم کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ لیکن رنجیت نے اپنا پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے دوران یہ بات اچھے طور پر سمجھ لی کہ اس کو بہتر سے بہتر او ر اعلیٰ تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔
گائوں کی ایک جھونپڑی میں رہنے والا ٹیلر کا یہ لڑکا بالآخر ملک کے مایا ناز تعلیمی ادارے IIT مدراس میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیتا ہے۔

اس کے مطابق میں جب مدراس آئی آئی ٹی میں میرا داخلہ ہوا تو تب میں نہ تو انگریزی بول سکتا تھااور نہ ہی میں نے کبھی اپنے ضلع سے باہر سفر کیا تھا۔ تعلیم کے دوران نہ صرف اس نے انگریزی سیکھی بلکہ انگریزی میں ہی ڈاکٹریٹ کی۔

ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے دوران رنجیت پریشان ضرور ہوا کہ اب واچ مین کی نوکری چلی گئی تو وہ اپنے گھر والوں کو کیسے سپورٹ کرے گا لیکن جب Ph.D. کے دوارن اس کو سرکاری اسکالر شپ ملنے لگی تو وہ اپنی اسکالر شپ میں سے ہی پیسے بچاکر اپنے گھر والوں کو بھیجتا تھا۔
گائوں سے نکل کر شہر کے ایک بڑے ادارے میں پڑھنے کے دوران رنجیت کو احساس کمتری کا سامنا تو تھا یہاں تک کہ وہ اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر واپس جانے کے بارے میں سونچنے لگا تھا لیکن اس کے دو پروفیسرس ڈاکٹر سبھاش ششی دھرن اور وائدھی نے اس کی ہمت بندھائی۔

قارئین کرام اساتذہ کی ہمت افزائی رنجیت کے کام آئی اور بالآخر اس نے سال 2020ء میں آئی آئی ٹی مدراس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔ قارئین دلچسپ بات تو یہ رہی کہ وہ نوجوان جس کی خود اور اس کے گھر والوں کی معاشی حالت بہت خستہ ہے وہ معاشیات کے موضوع پر تحقیق کر کے اس مضمون کی اعلیٰ ترین سند ملک کے باوقار ادارے سے حاصل کرلیتا ہے۔

سال 2021ء میں رنجیت کو بنگلور کی کرائسٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی نوکری مل جاتی ہے اور وہ بنگلور منتقل ہوجاتا ہے۔ 28 سالہ رنجیت رامچندرن کی جدو جہد سے بھری زندگی بہت کچھ ترغیب دلاتی ہے۔ گذشتہ دنوں جب ملک کے ہی ایک اور باوقار ادارے IIM رانچی نے اپنے ہاں تقررات کیے تو رنجیت رامچندرن کو اپنے ہاں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرنے کے لیے مقرر کرلیا۔ اس ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپئے بتلائی جاتی ہے۔

ایک جھونپڑی میں رہنے والے خاندان کا یہ لڑکا جس نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور نائٹ واچ مین کیا تھا آج بھی اپنی ابتدائی زندگی کی جدوجہد کو فخریہ طور پر بتلاتا ہے۔ اس کے مطابق ’’میں چاہتا ہوں میری زندگی سے اُن نوجوانوں کو تحریک ملے جو کامیابی حاصل کرنے جدو جہد کر رہے ہیں۔‘‘

اس کے مطابق میں ایسے کچے مکان میں رہتا تھا جو بمشکل 400 اسکوائر فٹ کا تھا۔ جس میں دو کمرے اور ایک چولہا تھا اور چھت پر پلاسٹک (پالی تھین) ڈالنے کے باوجود پانی رستا تھا۔ رنجیت کا تعلق شیڈولڈ ٹرائب ST طبقے سے ہے لیکن وہ کہتا ہے میں نے اپنی زندگی میں اس ریزرویشن کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔

قارئین کرام 10؍ اپریل 2021ء کو رنجیت رامچندرن نے اپنے سوشیل میڈیا کے اکائونٹ پر اپنی اس 400 ایس ایف ٹی سائز کی جھونپڑی کی تصویر شائع کی اور لکھا کہ ’’یہی وہ گھر ہے جہاں پر آئی آئی ایم کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کا جنم ہوا تھا۔‘‘ رنجیت رنجن کے اس سوشیل میڈیا پوسٹ پر ملک بھر کے میڈیا نے کوریج دیا اور رنجیت رنجن کی فیان فالوئنگ میں زبردست اضافہ بھی ہوا۔

انگریزی کے اخبار The Indian Express نے 11؍ اپریل 2021 کو اس حوالے سے Shaju Philip کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ جس کی سرخی تھی "Night Guard to IIM Teacher: kerala man takes hard road.”

قارئین تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ جھونپڑی میں رہنے والے ٹیلر کے بیٹے نے IIM تک کا سفر طئے کیا۔ اب ذرا ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ساجد احمد (نام تبدیل) کی عمر 25 سال ہے۔ ساجد پیشہ سے آٹو ڈرائیور ہے۔ ساجد سے جب پوچھا گیا کہ اس نے کہاں تک تعلیم حاصل کی تو وہ کہنے لگا کہ دسویں تک۔ جب اس سے سوال کیا گیا کہ وہ آگے کیوں نہیں پڑھا۔ تو اس کا کہنا تھا کہ پڑھائی میں اس کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔ اب اس کو اپنے گھر کی ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ تمہارے گھر میں کون کون ہے تو اس نے بتلایا کہ میری بیوی اور دو بچے۔ ساجد کے مطابق اس کی بیوی گریجویشن پاس ہے اور اس کے دونوں بچے پچھلے ایک سال سے گھر پر ہی ہے۔

اس کے مطابق اسکول والے آن لائن کلاس کے نام پر صرف پیسے مانگ رہے تھے اور اس کا ہاتھ بھی تنگ تھا تو اس نے بچوں کو گھر پر ہی بٹھالیا۔ اس نے اطمینان دلایا کہ اس کی بیوی بچوں کو گھر میں پڑھا رہی ہے۔ جب بھی اسکول ریگولر کھلے گا تو وہ اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول میں شریک کروانے کے بارے میں سونچے گا۔

ساجد تمہاری شادی کیسے ہوگئی؟ سر دراصل میری بیوی میرے آٹو سے ہی کالج جایا کرتی تھی۔ بس ہماری لو میاریج ہوگئی۔ گھر والے راضی ہوگئے۔ میں سسرال والوں کو گریجویٹ بتلایا ہوں اور نوکری نہیں ہے اس لیے بیکار رہنے کے بجائے آٹو چلا رہا ہوں کہا ہے۔

ساجد احمد کہتا ہے کہ ارے صاحب ویسے بھی ہم مسلمانوں کو پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے کون ہم لوگوں کو نوکری دینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
محمد مزمل (نام تبدیل) ایک انجینئرنگ گریجویٹ ہے۔ 24 سال کے اس نوجوان کو نوکری کی تلاش ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سر انڈیا میں آج کل Pay بہت کم ہوگئی ہے۔ اس لیے وہ باہر جاکر کمانا چاہتا ہے۔ کیا مزمل کو اپنے وطن میں نوکری نہیں ملی؟ اس سوال پر وہ بتلاتا ہے کہ سر میں میکانیکل انجینئر ہوں۔ مگر مجھے ایک سائٹ سوپر وائزر کی نوکری ملی تھی۔

تنخواہ صرف بارہ ہزار تھی۔ دو مہینے کے بعد میں نوکری چھوڑ دیا کیونکہ اپنا پٹرول اور جم کا خرچہ بھی نہیں نکل رہا تھا۔ پھر اب کیا؟ تو نوجوان جواب دیتا ہے ارے سر کرونا ختم ہوتے ہی یوروپ میں زبردست Openings ہونے والے ہیں۔ وہیں پر Try کرنے والا ہوں۔ تمہیں کس نے بتلایا تو اس کا جواب تھا میرے کالج کا ایک Senior وہاں پر ہے۔ اس سے میں Contact میں ہوں۔

قارئین میں اپنے آج کے کالم میں اپنی رائے کا بالکل بھی اظہار نہیں کر رہا ہوں۔ ماشاء اللہ سے آپ سب بالغ النظر اور سمجھدار ہیں۔ تجزیہ آپ ہی کرلیں۔ اور فیصلہ کرسکتے ہیں تو وہ بھی کرلیجئے گا کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ آپ کا دائرہ عمل کتنا ہے۔ چونکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے تو میں بس دعا کرتا ہوں کہ ائے اللہ تو ہمیں حق بھی دکھا اور حق کا حق ہونا بھی دکھا۔ باطل بھی دکھا، باطل کا باطل ہونا بھی ہم پر واضح فرما اور ہم سبھی کو صراط المستقیم پر چلادے۔ (آمین یارب العالمین)

اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی
اللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہی
تسکین کی آخر کوئی صورت بھی تو ہو
رویت ممکن نہیں تو رویا ہی سہی

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button