
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن)ممتا بنرجی نے مسلم ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کو مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہیں ہونے دیں۔ اس پروزیراعظم نریندرمودی نے بالواسطہ ہندوکارڈکھیل دیااورالیکشن کمیشن کوبھی نشانہ بنایا۔سمجھاجاتاہے کہ اس مبینہ دبائوکے بعدالیکشن کمیشن نے نوٹس بھیجاہے لیکن یوگی اوربی جے پی لیڈروں کی مذہبی بنیادوپرانتخابی تشہیر پر الیکشن کمیشن کانوٹس نہیں آیا ہے۔
شکایت کے مطابق ممتابنرجی نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹی ایم سی کے لیے ووٹ مانگے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی سے 48 گھنٹوں کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔جب کہ تقریباََمذہبی بنیادوں پراورلوگوں نے بھی ووٹ مانگے ہیں ۔اتوار کو ایک انتخابی ریلی میںوزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مسلم ووٹرز کو بی جے پی کے بارے میں متنبہ کیا۔
ممتا نے اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم اور عباس صدیقی کے انڈین سیکولر محاذ کی بجائے ٹی ایم سی کے حق میں اتحاد سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔ اسی دوران بنگال کے کوچ وہار میں اپنی ریلی کے دوران ، وزیر اعظم نریندر مودی نے ممتا بنرجی پر ہندو مسلم کے نام پرووٹ مانگنے کا الزام عائد کیا۔وزیر اعظم نے دعویٰ کیاہے کہ اگر وہ تمام ہندوؤں سے اتحاد اور بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے تو انہیں الیکشن کمیشن کے آٹھ دس نوٹس ملتے اور ملک بھر کے اخبارات میں ان کے خلاف بیان شائع ہوتے۔



