نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی عہدیدار بظاہر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی ایسے معاہدے کا فوری طور پر امکان کم ہے جو واشنگٹن اور تہران کو سن 2015 کے جوہری معاہدے میں واپس لاسکے۔حالیہ دنوں میں ایسے متعدد سفارتی رابطوں اور امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں جن سے دونوں ملکوں کے درمیان کسی معاہدے کے قریب پہنچ جانے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
ویانا میں جاری مذاکرات کے دوران پیر کے روز گو کہ واشنگٹن اور لندن نے تہران سے آنے والی ان خبروں کو مسترد کردیا جن کے مطابق امریکہ اور برطانیہ، ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہو گئے ہیں۔ لیکن اس طرح کا تبادلہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے اعتماد سازی کا سبب بن سکتا ہے۔اگرامریکا ایران جوہری معاہدے میں واپس آتا ہے تو یہ صدر جو بائیڈن کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور متنازع فیصلہ ہوگا۔ یہ ایک ایسے معاہدے کو بحال کردے گا جسے صدر بائیڈن کے معاونین نے اوباما انتظامیہ کے دور میں ممکن بنایا تھا لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے نہ صرف الگ کرلیا بلکہ امریکا کو اس سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔
اس معاہدے کی بحالی اور اس کے تحت ایران کو دی جانے والی مراعات اپوزیشن ریپبلیکن کے علاوہ اسرائیل اور امریکا کے عرب اتحادیوں کو بھی ناراض کر سکتی ہیں۔اسرائیلی، امریکا کے ایران کے ساتھ کسی بھی مصالحت کے سخت مخالف ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ کو یہودی ریاست کے وجود کے لیے مستقل خطرہ سمجھتے ہیں۔



