بین الاقوامی خبریں

امریکہ کی مدد کرنے والے افغان، خوف اور خدشات کے سائے میں

نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایسے افغان باشندے جو افغانستان میں امریکی فوج کی مدد اور معاونت کے فرائض انجام دیتے رہے، اب امریکی فوجی انخلا کے تناظر میں بے حد خوف اور خدشات کا شکار ہیں۔افغان شہری ایاز الدین ہلال نے امریکی فوج کے لیے بطور مترجم کام کیا۔ اس دوران انہوں نے مشرقی افغانستان میں درجنوں بار فوجی گشت میں ساتھ دیا اور درجنوں مقامات پر عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں بھی شامل رہے۔

انہیں اس کے بدلے امریکی پلٹون کمانڈر کی جانب سے خدمات کے اعتراف میں تمغہ دیا گیا۔ انہوں نے حال ہی میں امریکہ جانے کے لیے ایک خصوصی ویزے کی درخواست دی، جو مسترد کر دی گئی۔ایاز الدین ہلال چاہتے تھے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ہم راہ امریکا منتقل ہو جائیں۔

اب جب کہ امریکی اور نیٹو فورسز افغانستان سے انخلا کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ایاز الدین ہلال اور ان جیسے ہزاروں دیگر افغان شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انہیں طالبان سے کون بچائے گا؟چھ بچوں کے والد 41 سالہ ہلال کہتے ہیں، ہم محفوظ نہیں ہیں۔ طالبان ہمیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ تمہارے سوتیلے بھائی جلد ملک سے جا رہے ہیں اور ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔

 ہلال جیسے افغان مترجموں کے مستقبل کا معاملہ غیرملکی فوج کے انخلا کے تناظر میں پیدا ہونے والے کئی طرح کے مسائل میں سے ایک ہے۔ غیرملکی افواج کے انخلا کے تناظر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کو لاحق خطرات اور افغانستان میں ایک بار پھر دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز جیسے دیگر امور بھی اہم ہیں۔سن 2009 میں متعارف کروائے گئے ایک پروگرام کے تحت مترجم اور دیگر افغان شہری جنہوں نے امریکی حکومت یا نیٹو کے لیے کام کیے، انہیں خصوصی امیگرنٹ ویزہ جاری کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل ایسا ہی پروگرام عراقی شہریوں کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ تاہم اس پروگرام کے حوالے سے شکایات یہ ہیں کہ اس کا طریقہ کار نہایت طویل اور پیچیدہ ہے اور کورونا کی وبا نے اس کی پیچیدگی اور طوالت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔گزشتہ ماہ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلِنکن نے صحافیوں سے بات چییت میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ امریکا افغانستان میں مترجموں اور ایسے دیگر شہریوں کی مدد کرے گا، جنہوں نے جنگی کاوشوں میں امریکا کی مدد کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button