آندھرا پردیش: کرونا کی آیورویدک دواکیلئے آئی زبردست بھیڑ، پڑوسی ریاستوں سے بھی آئے لوگ
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہر کوئی کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے کے لئے علاج کی تلاش میں ہے۔ ادھر سیکڑوں افراد کورونا سے علاج کا دعوی کررہے ہیں۔ کچھ گائے کا پیشاب پی کر علاج کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ جادوٹونا پر یقین کررہے ہیں۔ ایسا ہی ایک توہم پرستی کا معاملہ آندھرا پردیش میں سامنے آیا ہے۔آندھراپردیش کے نیلور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آیورویدک دوائی کیلئے لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔
لوگ دور دراز علاقوں سے آرہے ہیں، وہ روزانہ کورونا کے علاج کے لئے قطار میں لگ جاتے ہیں۔ دراصل آنندیا نامی ایک آیوروید ڈاکٹر نے اپنی دوا سے کورونا کے علاج کاکامیاب دعویٰ کیا ہے۔ ان کا یہ دعوی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس کے نتیجے میں دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں آنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ پڑوسی ریاستوں سے بھی بہت سے لوگ یہاں آئے تھے۔
#AndhraPradesh: Flocks of people have gathered at Krishnapatnam, Nellore to get the magical remedy for Covid19 from an ayurvedic practitioner Anandaiah.
Since the last few days, at least 4-5k people are turning to get their share of medical remedies.@NewsMeter_In pic.twitter.com/lrWTUzfurH— Sumit | सुमित (@sumitjha__) May 21, 2021
آنندیا لوگوں کو اپنی آیورویدک دوائیں بالکل مفت دے رہے ہیں،جن کی حالت نازک ہے انہیں آنکھ کی دوا بھی دی جارہی ہیں ۔ تاہم ابھی تک کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ آیورویدک دوائیں کورونا کو درست کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ بہر حال یہاں بڑی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں۔



