بین ریاستی خبریںسرورق

ایم پی: کروناوائرس کی بڑھتی وحشت ، ایک دن میں 5ہزار کیسزرپورٹ

اندور ، جبل پور اور اُجین سمیت 12 شہروں میں لاک ڈاؤن میں توسیع

بھوپال :(اردودنیا.اِن)صوبہ مدھیہ پردیش میں ایک ہی دن میں 5ہزار کرونا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اندور ، جبل پور ، اُجین سمیت 12 شہروں میں لاک ڈاؤن میں توسیع کردی گئی ہے۔یہ فیصلہ اضلاع کے کرائسز مینجمنٹ گروپ کی وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے۔عیاں ہو کہ مدھیہ پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ ڈاکٹر راجیش راجورا کے مطابق کرونا وبا کی روک تھام کے لئے 19 اپریل کی صبح 6 بجے تک ضلع بڑوانی ، راج گڑھ ، ودیشہ اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، اسی طرح ، اندور ، راؤ ، مہو ، شاجا پور اور اُجین اضلاع کے تمام شہری علاقوں میں بھی 19 اپریل کو صبح 6 بجے تک کیلئے لاک ڈاؤن نافذالعمل ہوگا۔

اُدھر 22 اپریل کی صبح 12 سے 6 اپریل کی رات تک جبل پور شہر کے ساتھ ساتھ بالا گھاٹ ، نرسنگھ پور اور سیونی ضلع میںبھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ڈاکٹر راجورا کے مطابق ضلعی کرائسز مینجمنٹ گروپ کے ساتھ میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے ایک دن میں 5000 کیسوں پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے، اورکرونا کی بڑھتی وحشت ناکی کو کنٹرول کرنے کے لئے ہی لاک ڈاؤن میں توسیع کا حالیہ فیصلہ کیا گیا ہے،وہیںضلع رتلام میں 9 دنوں کا لاک ڈاؤن 6 اپریل سے نافذ ہے ، جو 19 اپریل کی صبح 6 بجے تک نافذالعمل رہے گا۔

اس کے علاوہ 17 اپریل کی صبح 6 بجے تک کھرگون ،کٹنی اور بیتول میں لاک ڈاؤن کے دوران تمام چیزیں سوائے ہنگامی خدمات کے،معطل رہیں گی۔ وہیں چھندواڑہ میں 8اپریلی کی رات 8بجے سے مستقل 7دن کا لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔و اضح ہو کہ ریاست میں اندورشہر میں کرونا کے زیادہ کیس پائے جارہے ہیں۔ یہاں 24 گھنٹوں میں 912 متاثرہ افراد رکرونا سے متاثر ہوئے ، جب کہ 5 افرادکی ہلاکت ہوئی ۔

دوسرے نمبر پردارالحکومت بھوپال ہے ،جہاں 736 کیسز پائے گئے ہیں۔جبل پور تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ یہاں 369 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور 2 افراد کی موت ہوئی ہے۔اجین میں 150 مریض پائے گئے اور 2 کی موت ہوگئی۔مدھیہ پردیش میں کرونا کے 34 فیصد مریض اسپتالوں میں داخل ہیں اور زیر علاج ہیں ، جبکہ 66فیصد مریض ہوم کورنٹائن میں ہیں۔ اسپتال میں داخل مریضوں کے متعلق فیصدی میں تفصیلات یوں ہیں ۔ نارمل بیڈ پر ، 8فیصد، آکسیجن بیڈ پر18فیصد، آئی سی یو بیڈز پر 8فیصد، جبکہ 66فیصدمتأثرین ہوم کورنٹائن ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button