
کسی بھی ریاست کا آکسیجن رُکنے نہ پائے، انجکشن کی کالابازاری پر ہو کاروائی
جبل پور:(اردودنیا.اِن) ر یاست میں آکسیجن اورکرونا میں انسانی جان کے محافظ ریمڈیسویر انجکشن کی کمی کے درمیان ایم پی ہائی کورٹ نے مرکز کی سخت سرزنش کی ہے۔ چیف جسٹس محمد رفیق اور جسٹس اتل سری دھرن کے بنچ نے تین درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ مرکز کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کوئی بھی کسی بھی ریاست کی آکسیجن کو نہیں روک سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریمڈیشور انجکشن کی کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا۔
28 اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت میں عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے 19 نکات میں اب تک ہونے والی پیشرفت کی اطلاع دینے کو بھی کہا ہے۔ریاست میں آکسیجن کی قلت پر پیر 26 اپریل کو صبح 9 بجے سے دوپہر تک مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس میں چیف جسٹس محمد رفیق اور جسٹس اتل سری دھر کے بنچ نے پوچھا کہ کیا پہلے جاری کردہ 19 نکاتی ہدایت نامے پر عمل کیا جارہا ہے؟
سابق ایڈوکیٹ جنرل آنند موہن نے ہائی کورٹ میںبتایا کہ یوپی میں ایم پی کے حصہ کا آکسیجن رکنے کی وجہ سے ساگر کے ایک مریض کی موت ہوگئی۔ اس معاملہ میں ہائی کورٹ نے مرکز کی سخت سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر ریاست آکسیجن نان اسٹاپ فراہم کیا جائے ۔عدلیہ نے ہدایت دی گئی ہے کہ اب سے ایسے واقعات پیش نہ آئے ، اسی کے ساتھ ریمڈیسویر انجکشن کی کالابازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا گیا۔



