قومی خبریں

بابری مسجدتنازعہ:ملزمین کی رہائی کافیصلہ غلط ایودھیاکے دوافراد نے عدالت میں کیاچیالینج

لکھنو(ایجنسییز) سال ۱۹۹۲؍ میں بابری مسجد انہدامی کیس میں شامل ۳۲؍ملزمین کی رہائی کوغلط بتاتے ہوئے ایودھیاکے دورہائشی باشندوں نے الہ آبادہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی ہے۔پی ٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق حاجی محموداحمد(۷۴؍سال) اورسیداخلاق احمد(۸۱؍سال)نے اپنے وکیل،مسلم پرسنل لابورڈکے ایکزیکیٹیوممبرظفریاب جیلانی کے ذریعہ الہ آبادہائی کورٹ میں بابری مسجدانہدامی کیس میں ملوث ۳۲؍ملزمین بشمول ایل کے اڈوانی،مرلی منوہرجوشی کورہاکرنے کے سی بی آئی عدالت کے فیصلہ کوچیلنج کیاہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق عرضی گزاروں نے شکایت کی ہے کہ ملزمین کے خلاف متعدد ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجودٹرائیلی کورٹ نے غلط فیصلہ لیتے ہوئے ملزمین کورہاکردیا۔دونوں شکایت کنندہ نے ٹرائیل کورٹ سے مبینہ فیصلہ سے متعلق ریکارڈ پیش کئے جانے کی درخواست کی ہے تاکہ تما م ملز مین کے خلاف ثبوتوں کی دوبارہ جانچ ہوسکے اورخاطیوں کوسزادی جاسکے۔اسپیشنل کورٹ نے تمام ۳۲؍ملزمین کوجن کے خلاف ایودھیامیں کارسیوک رضاکاروں کوبابری مسجدشہیدکرنے کیلئے اکسانے کی شکا یت درج ہے،رہاکردیاتھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button