بین الاقوامی خبریں

بیت المقدس ،نواحی علاقے سے 18 ماہ میں 1300 فلسطینی گرفتار

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 1300 فلسطینیوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے

مقبوضہ بیت المقدس :فلسطین کے تاریخی شہر بیت المقدس کے علاقے العیسویہ میں مقامی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین نے بتایا ہے کہ 2019ء کے وسط سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 1300 فلسطینیوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق محمد ابو حمص کا کہنا ہے کہ 2019ء کے وسط سے اب تک العیسویہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تشدد کے نتیجے میں 15 سے زیادہ بچے زخمی ہو چکے ہیں۔ 6 دسمبر 2020ء کو اسرائیلی فوج نے العیسویہ میں ایک 17 سالہ فلسطینی عمر احمد محمود کو دھاتی گولیوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عمر محمود شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیلی فوج نے عیسویہ کو فوج کی تربیت کے ایک مرکز میں تبدیل کر رکھا ہے۔ یہ علاقہ گزشتہ 2 سال سے فلسطینیوں اورقابض فورسز کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ قابض فوج نے تشدد کے مکروہ حربے استعمال کر کے فلسطینیوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ قابض فوج نے حالیہ ایام میں چھاپوں کے دوران العیسویہ میں صحت کے مراکز کو بھی حملوں کا نشانہ بنایااور ان میں گھس کر توڑ پھوڑ کی ہے۔ دریں اثنا یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی شہری کو اغوا کے بعد بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا۔ شہید فلسطینی کی لاش ایک یہودی کالونی کے اندر سے پھندے سے لٹکی پائی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے 37 سالہ عبدالفتاح محمد عبیات کو بیت لحم کے نواحی علاقے ھندازہ سے اغوا کیا اور اسے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ بعد ازاں اس کی لاش جنوبی بیت المقدس میں قائم گیلو یہودی کالونی سے ملی جہاں کے گلے میں رسی ڈال کر اسے لٹکایا گیا تھا اور اس کے جسم پر تشدد کے بھی نشانات موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button