
تحقیق میں دعویٰ: کرونا کے صحت یاب مریضوں کو ویکسین کی صرف ایک خوراک کی ضرورت ہے
نیویارک:(ایجنسیاں)کروناوائرس کی ویکسین کے اثرات کے ضمن میں حال ہی میں مختلف تحقیقی مطالعات سامنے آئے ہیں۔ان کے نتائج کے مطابق کووِڈ-19 کے مرض کا شکار افراد میں صحت یاب ہونے کے بعد قوتِ مدافعت بہتر ہوجاتی ہے اور انھیں ایم آر این اے ویکسینوں کی صرف ایک خوراک لگانے کی ضرورت ہوگی جبکہ ان کے مقابلے میں عام تندرست افراد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں ہی لگانی چاہیے ۔
گذشتہ سال دسمبر میں کروناوائرس کی ویکسین جب تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچی تھیں تواس کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات اور نتائج کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقی مطالعات بھی شروع ہوگئے تھے۔ لاس اینجلس میں سیڈارس سینائی میڈیکل سنٹر کے عملہ کے ایک ہزار سے زیادہ ارکان نے رضاکارانہ طور پر ایک مطالعے میں حصہ لیا ہے۔اس میں انھیں ویکسین لگانے کے بعد ان کے مدافعتی نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس تحقیقی مطالعے کی قائد سوسن چینگ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا میں ایک واضح رجحان ملاحظہ کیا گیا ہیاور وہ یہ کہ جو لوگ کووِڈ-19 کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوگئے تھے،
ان میں ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوانے کے بعد بہتر ردعمل ظاہر ہوا ہے۔اس کے مقابلے میں جو لوگ اب تک کووِڈ-19 کا شکار نہیں ہوئے اور انھوں نے دونوں خوراکیں لگوائی ہیں، ان میں کم قوتِ مدافعت پیدا ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا پیغام بڑا واضح ہے ، وہ یہ کہ آپ کو فائزر اور ماڈرنامیں سے کسی ایک ویکسین کی صرف ایک خوراک لگانے کی ضرورت ہے۔
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع شدہ ایک اطالوی تحقیق میں بھی یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ جانسن اینڈ جانسن اور آسٹرازینیکا کی ویکسین کے ضمنی اثرات سامنے آنے کے بعد کووِڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کو صرف ایک خوراک لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔



