سائنس ریکارڈ کی بنیاد پر پراکٹیکلس مارکس ، تلنگانہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ کا جائزہ
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن) کورونا میں شدت پیدا ہوجانے کی وجہ سے انٹر میڈیٹ سیکنڈ ایر کے امتحانات کا انعقاد ناممکن ہونے کی صورت میں انٹر فرسٹ ایر کے امتحانات میں طلبہ کو جو مارکس آئے وہی مارکس انٹر سیکنڈ ایر کو دینے کے معاملے میں تلنگانہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ سنجیدگی سے غور کررہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالت کے پیش نظر فی الحال انٹر میڈیٹ سیکنڈ ایر کے امتحانات کے انعقاد کے لیے حالت سازگار نہیں ہیں ۔
بہت کم امکانات پائے جاتے ہیں حکومت نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ جون کے پہلے ہفتہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے امتحانات کے انعقاد کے بارے میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تب تک کورونا وبا کے کمزور پڑنے کے کوئی امکانات نہیں ہے ۔ مزید تاخیر ہونے پر ریاست میں انجینئرنگ ، طبی تعلیم ، این آئی ٹیز ، آئی آئی ٹی و دیگر اہلیتی امتحانات کے لیے مسائل پیدا ہوں گے ۔ جوابی پیپرس کی جانچ کے لیے خانگی لکچررس کے ٹال مٹول کی پالیسی سے نتائج کی اجرائی میں تاخیر ہوگی ۔
یہی نہیں جاریہ تعلیمی سال صرف 20 تا 25 دن باقاعدہ کلاسیس کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ایسے حالت میں امتحانات کا انعقاد بھی ممکن نہ ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے عہدیدار بھی امتحانات کا انعقاد ممکن نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کو کس طرح مارکس دیا جائے اس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔
فرسٹ ایر میں جو مارکس آئے وہی مارکس انٹر سیکنڈ ایر کے طلبہ کو دینے پر غور کیا جارہا ہے ۔ اگر طلبہ کی جانب سے دئیے جانے والے مارکس سے عدم اتفاق کیا جارہا ہے تو ایسے طلبہ کو امتحانات تحریر کرنے کا موقع فراہم کرنے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔
سائنس ریکارڈ کی بنیاد پر پراکٹیکل مارکس دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ سکریٹری بورڈ آف انٹر میڈیٹ سید عمر جلیل نے تمام کالجس کو ہدایت دی ہے کہ وہ 3 مئی تک اخلاقیات ، ماحولیات اور اسائنمنٹس کے مارکس روانہ کردیں ۔ مارکس کو فیس سے جوڑنے کے خلاف کالجس انتظامیہ کو انتباہ دیا ۔ والدین کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر اسائنمنٹس نہ لینے کی شکایت وصول ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔



