
یو پی آئی ڈیٹاکسی تیسری پارٹی سے شیئر نہ کرنے سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ نے واٹس ایپ سے مانگا جواب
یو پی آئی ڈیٹاکسی تیسری پارٹی سے شیئر نہ کرنے سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ نے واٹس ایپ سے مانگا جواب
نئی دہلی: (اردودنیا ِ.اِن) سپریم کورٹ نے پیغام رسا ایپ واٹس ایپ سے ایک درخواست پر پیر کو جواب مانگاہے۔ درخواست میں آر بی آئی اور این پی سی آئی کویہ یقینی بنانے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے کہ یونیفائیڈ ادائیگی انٹرفیس (یو پی آئی) فورمز کے لئے جمع کئے جانے والے ڈیٹا کوکے اپنے ادارے یا کسی تیسرے فریق (تھرڈپارٹی) کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔
چیف جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کی بنچ نے کہا کہ اگر واٹس ایپ جواب داخل نہیں کرتا ہے توراجیہ سبھا ممبر اور درخواست گزار ونے وشوم کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن میں کہی باتوں کوسہی مان لیاجائے گا ۔ درخواست میں کچھ مفاد عامہ کی عرضی بھی دائر کی گئی،
جن میں قواعد وضع کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یوپی آئی فورمز کے ذریعہ جمع کردہ ڈیٹا کو ادائیگی کے عمل کے علاوہ کسی اور کام میں یا کسی اور طریقے سے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یو پی آئی ایک موبائل ایپلی کیشن ہے جس کے ذریعہ ایک بینک کاکھاتاہولڈر اپنے منسلک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں پیسہ ٹرانسفر کرسکتے ہیں۔
واٹس ایپ انڈیا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ اروند داتار نے تاہم کہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے لئے اس پٹیشن کے معاملے میں انہیں کوئی باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ وی گیری نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنا جواب داخل کردیا ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہاکہ’ واٹس ایپ ‘ کو تمام ضروری منظوری مل گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کرشنا وینوگوپال نے کہا کہ عدالت نے آخری بار کمپنی سے پوچھا تھا کہ کیا اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس نے ان کے سسٹم میں مداخلت کی ہے،
درخواست میں اس معاملے کو قبول نہیں کیا گیا، جو غلط ہے۔ بنچ نے کہا کہ اس کی تجویز ہے کہ اس عرضی کو سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر التوا ایسی ہی ایک پٹیشن سے جوڑدیا جائے اور مرکز سے جاسوسی سافٹ ویئر پر حلف نامہ داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔
وینوگوپال نے کہا کہ ابھی تک فیس بک اور واٹس ایپ نے اس معاملے میں اپنا جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیاہے، حالانکہ پٹیشن مہینوں سے زیر التوا ہے۔ سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے واٹس ایپ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل کو بتایا کہ ان کی نئی رازداری پالیسی کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے اور اس کیس میں آئندہ سماعت کے لئے چار ہفتے کے بعدکی تاریخ طے کی گئی ہے۔




