
برلن:(ایجنسیاں)جرمنی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً سترہ ہزار دو سو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ بات وبائی امراض کی روک تھام کے جرمن ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے آج اتوار کو برلن میں بتائی۔
یوں ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر اب ستائیس لاکھ بہتر ہزار چار سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی دوران کل ہفتے کو کووڈ انیس کے مزید نوے مریض انتقال کر گئے۔ جرمنی میں اس وبا کے باعث انسانی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب پچھہتر ہزار آٹھ سو ستر ہو گئی ہے۔
ملک کو دو ہفتے کے انتہائی سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت، جرمن ڈاکٹرز
جرمن ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ ملکی ہیلتھ کیئر نظام کو کورونا کے مریضوں کی بہت زیادہ تعداد کے باعث مفلوج ہونے سے بچانے کے لیے سخت لاک ڈاؤن وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ان آئی سی یو معالجین کا خیال ہے کہ ملا جلا لیکن سخت لاک ڈاؤن اور ویکسینیشن کے تحت دو ہفتوں میں پورے ملک میں پھیلی اس وبا کی نئی لہر کو قابو میں لانا ممکن ہو گا۔
ان خیالات کا اظہار جرمنی میں مریضوں کی انتہائی نگہداشت اور ایمرجنسی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹروں کی ملکی تنظیم کے سربراہ کرسٹیان کاراگیانیڈیس نے اخبار ‘رائنشے پوسٹ‘ کیساتھ ایک میں کیا۔ممتاز جرمن معالج کرسٹیان کاراگیانیڈیس نے وفاقی اور ریاستی وزراء کو تجویز دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے کسی بھی فوری امکان کو فی الوقت مؤخر کر دیں۔
انہوں نے سیاستدانوں سے کہا کہ وہ ہسپتالوں کے ملازمین کو غیر فعال ہو جانے سے بچائیں۔ انہوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے جرمن سیاستدانوں کو مشورہ دیا کہ ایسٹر کے بعد ایسا کرنے کے ممکنہ منصوبے کو ابھی سے ملتوی کر دیا جائے اور اگر ایسا کرنا بھی ہو، تو پہلے مجموعی صورت حال کا بغور جائزہ لیا جائے اور پھر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کے نائب سربراہ ٹوماس اشٹروبل نے بھی نئی کورونا انفیکشنز کی تعداد میں مسلسل اضافے کے تناطر میں سخت لاک ڈاؤن کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کی حمایت کی ہے۔ اشٹروبل کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کی تبدیل شدہ ہیئت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن ازحد ضروری ہو گیا ہے۔
ان کا یہ بیان اخبار ‘اشٹٹگارٹر سائٹنگ‘ میں شائع ہوا۔ اس مناسبت سے وفاقی جرمن وزیر صحت ژینس اشپاہن خبردار کر چکے ہیں کہ اپریل میں جرمن ہیلتھ سسٹم پر موجودہ بوجھ اپنی انتہا کو پہنچ سکتا ہے۔ اس بیان کے حوالے سے آئی سی یو اور ایمرجنسی میڈیسن کے ڈاکٹروں کی ملکی تنظیم کے سربراہ کاراگیانیڈیس نے بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے۔جرمنی میں متعدی امراض پر نگاہ رکھنے والے قومی ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ (آر کے آئی) نے بتایا ہے کہ ملک میں نئی کورونا انفیکشنز کی ہفتہ وار تعداد فی ایک لاکھ افراد میں اب ایک سو پچیس کے قریب پہنچ گئی ہے۔
انسٹیٹیوٹ کے سربراہ لوتھار ویلر نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سماجی سرگرمیوں کو خاص طور پر ایسٹر کی تعطیلات کے دوران انتہائی محدود کر دیں تا کہ نئی انفیکشنز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جا سکے۔جرمنی میں اب تک دس فیصد باشندوں کو کورونا کے خلاف ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ آر کے آئی کے مطابق اس ویکسینیشن سے اب تک حاصل ہونے والا شماریاتی فائدہ وبا میں تیز رفتاری اور اضافے کی وجہ سے ضائع ہو گیا ہے۔
جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی نئی انفیکشنز کی تعداد ساڑھے بیس ہزار کے لگ بھگ رہی۔ آج ہفتے کے دن کووڈ انیس کے مزید ایک سو ستاون مریض انتقال کر گئے۔ملک میں کورونا کی وبا کے باعث ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد اب پچھتر ہزار سات سو اسی ہو گئی ہے جب کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی اب بیس لاکھ پچھتر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔



