سرورققومی خبریں

جمعیۃ علماء ہند کی قانونی چارہ جوئی :شیووہار کی مدینہ مسجد کے اصل مجرم جلد بے نقاب ہو ںگے

ایک سال بعد کورٹ کی ہدایت ملی تو نارتھ ایسٹ ڈی سی پی نے اس سے متعلق رپورٹ داخل کی۔

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)دہلی فساد میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شیووہار میں واقع مدینہ مسجد میں فرقہ پرست عناصر کی توڑ پھوڑ کے ایک سال بعد بالآخر آج دہلی کی عدالت میں اس پر علیحدہ شنوائی شرو ع ہوئی ، اس سے امید جگی ہے کہ مسجد کو نذر آتش کرنے والوں کو جلد سزا ملے گی ۔

آج جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ایم آر شمشاد نے مسجد کی طرف سے اپنا موقف رکھا اور پولس کے ذریعہ تحقیق کے رویے پر سنگین سوالات قائم کیے ۔مسجد کو نشانہ بنانے سے متعلق گزشتہ سال حاجی محمد ہاشم علی وغیرہ نے کروال نگر تھانہ میں ایف آئی نمبر 55/2020 کے تحت رپورٹ درج کرائی تھی، لیکن اس مقدمہ کو پولس نے کسی دوسرے مقدمے سے جوڑ کر خود درخواست دہند ہ حاجی ہاشم کو جیل میں بند کردیا تھا ۔پولیس کے اس معتوب اور قابل ملائمت رویہ پر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈوکیٹ ایم آرشمشاد نے عدالت میں مضبوط استدلال کرتے ہوئے اس کی طرف عدالت کو متوجہ کیا تھا،

جس کے بعد عدالت نے اسی ماہ ۱۷ مارچ کو پولس کے رویے کی ملامت کی تھی اور اس سلسلے میں متعلقہ تھانہ کو اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ عدالت کی سخت ہدایت کے بعد ایک سال بعد نارتھ ایسٹ دہلی کے ڈی سی پی نے عدالت میں رپورٹ فائل کی ، حالاں کہ عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ رپورٹ ڈائری ، سی آر پی سی قانون کے مطابق نہیں ہے ،

کور ٹ نے کہا کہ مدینہ مسجد کی طرف سے پیش کردہ اوریجنل شکایت کی کاپی یہاں ریکارڈ سے کیوں غائب ہے ، ساتھ مدینہ مسجد معاملے کودوسرے مقدمہ سے جوڑنے کے پولس کے موقف کو عدالت نے غلط قرار دیا، کورٹ نے دہلی پولس کی تحقیق کے رویے پر بھی ناراضی ظاہر کی ۔ اب اگلی سماعت ۷؍اپریل کو مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button