بین ریاستی خبریں

مبارک خان کیس:جمیعت علماء جھارکھنڈ نے مہیش پور پہنچ کر کیس لڑنے کی پیشکش کی

قانونی کارروائی

مولانا ابوبکر قاسمی، مولانا اصغر مصباحی، شاہ عمیر نے اسے ماب لنچنگ قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا

رانچی:(اردودنیا.اِن) جمیعت علماء جھارکھنڈ کا ایک وفد مولانا ابوبکر قاسمی جنرل سکریٹری جمیعت علماء جھارکھنڈ کے قیادت میں مہیش پور پہونچا اور مبارک خان کے اہل خانہ سے ملاقات کر پوری جانکاری لی۔مولانا کےساتھ جمیعت علماء رانچی ضلع صدر مولانا اصغر مصباحی، جمعیت علماء کے خازن شاہ عمیر، حافظ عارف اور محمد عادل رشید تھے۔ مولانا نے مہیش پور پہونچ کر انکے گھر والوں اور وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ جمعیت علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمود مدنی کے حکم پر میری ٹیم یہاں ائی ہے۔

اگر آپ لوگ کہیں گے تو جمیعت علماء یہ کیس لڑنے کو تیار ہے۔ آپ لوگ مشورہ کرکے جمیعت کو خبر کر دیں۔ مہیش پور انجمن اسلامیہ کے صدر محمد شمیم اور سکریٹری مولانا فیاض،علاقہ کے پرمکھ انور خان، سماجی کارکن مصطفی، سماجی کارکن محمد ذاکر، نے ماب لنچنگ کے واقع پر جانکاری دیتے ہوئے کہا کی ماب لنچنگ کا شکار ہوا مبارک خان اپنے محلہ میں شریف لڑکوں میں سے تھا۔

مبارک خان پاؤروٹی، بریڈ کا کام کرتا تھا۔

یہ پوری جھوٹ بولی جارہی ہے کہ وہ چوری کرکے بھاگ رہا تھا۔ یہ سراسر غلط الزام ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ مبارک خان پاؤروٹی، بریڈ کا کام کرتا تھا۔گاڑی سے لاتا لیجاتا تھا۔ مارنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ جولھا مسلمان تھا۔ اس کو گھر سے بلا کر سرکا گاؤں لے گیا اور وہاں اس کو بے دردی سے ہجوم بناکر مار ڈالا۔

کسی نے گردن پر لات مارا،کسی نے پاؤ توڑ دیا، لاٹھی، ڈنڈے، چپل اور جسکے ہاتھ میں جو چیز ملی مارتے مارتے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مبارک کے بڑے بھائی اور محلہ والوں نے 17 لوگوں پر نامزد ایف آئی آر کیا ہے۔جن میں سے 11گرفتار ہوئے۔ باقی کی کھوج بن ہو رہی ہے۔ 12:30 رات کی یہ گھٹنا ہے۔ اس علاقہ کے اپ پرمکھ انور خان کو تھانہ سے فون آیا کے محلہ کے لڑکا کو مارا گیا ہے۔

چوری کے جس گاڑی کو بتا رہے ہیں۔اس میں ذرا سا بھی خروچ نہیں ہے۔ یہ سب مارنے والا بجرنگ دل اور آرایس ایس کے لوگ ہیں۔ یہ ماب لنچنگ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مسلمانوں کو ہراسمنٹ کرنے کئی لیے کیا گیا ہے۔ گاؤں کے سبھی لوگ جمع ہوہے، خاص طور سے نوجوان جمع ہوکر مولاناابو بکر قاسمی کی باتوں کو غور سے سنے۔ مولانا نے شانتی بنائے رکھنے کا ماحول بنایا۔

جمیعت علماء کی طرف سے قانونی کارروائی کر مجرم کو آخر حد تک سزا دلانے کا جمعیت کے طرف سے یقین دلایا گیا۔ تمام زمہ داروں نے حوصلح مندی کے ساتھ جمیعت علماء کی اسکیم کو سراہا۔ اور مل جل کر کارروائی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ دعا کے بعد وفد رات کو 10 بجے رانچی لوٹا۔

بائیک ٹائر کے چوری کے الزام میں مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر سفاکانہ قتل

متعلقہ خبریں

Back to top button