حادثہ چمولی : اب تک 62 افراد کی ملی لاشیں ، 28 انسانی اعضا بھی برآمد

چمولی: (اردودنیا.اِن)چمولی حادثے کے ریسکیو آپریشن کا آج 13 واں دن ہے، اب تک 62 افراد کی لاشیں اور 28 انسانی اعضاء کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔ 142 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ تباہی اتنی بھیانک تھی کہ چمولی کے بہت سے علاقوں میں اب تک ملبہ نظر آرہا ہے، یہ ملبہ بھی چٹان کی طرح بن گیا ہے۔
اس کی کھوج کرکے این ڈی آر ایف ، ایس ڈی آر ایف اور اتراکھنڈ پولیس امدادی کارروائی کر رہی ہے۔این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں ملبے تلے دبے لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے ڈاگ اسکواڈ ، دوربین وغیرہ کا استعمال کررہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ تاپوون ٹنل(سرنگ) میں ابھی بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی توقع ہے۔ کیچڑ اور دلدل کی وجہ سے ریسکیو میں پریشانی کا سامنا ہے۔ لوگوں کی مدد سے ریسکیو آپریشن جاری ہے ، تاکہ انسانی لاش خراب نہ ہوں۔
دریں اثنا ایس ڈی آر ایف نے رینی گاؤں کے قریب دریائے رشی گنگا میں واٹر سینسر لگایا ہے۔ یہ خطرہ دریا میں پانی کی سطح بڑھنے سے پہلے ہی بجنے لگے گا۔ لوگ ایک کلومیٹر کے فاصلے تک اس کا الارم سن سکیں گے اور وقت پر محفوظ مقامات پر پہنچ پائیں گے۔چمولی کے علاقہ تپوون میں 6 فروری اتوار کی صبح ساڑھے 10 بجے گلیشیر ٹوٹ کر رشی گنگا میں گراتھا ،
جس کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب بلا آگیا تھا۔جس کی وجہ سے دونوں ندیوں کے کنارے آباد مکانات بہہ گئے، اس کے علاوہ بجلی کے دو منصوبوں اور بارڈر روڈ آرگنائزیشن کے ذریعہ تعمیر کردہ پل بھی تباہ ہوگیاتھا،



